غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) دنیا بھر میں صحافت کی آزادی کا دن منایا جا رہا ہے، فلسطین میں صحافتی اقدار اور قلم کے حرمت کی پامالی کے ایسے لرزہ خیز حقائق سامنے آ رہے ہیں جو انسانی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ غزہ کی پٹی سے لے کر مقبوضہ بیت المقدس تک، فلسطینی صحافی قابض اسرائیل کی اس منظم اور خونیں مہم کا نشانہ بن رہے ہیں جس کا مقصد حق کی آواز کو مٹانا اور فلسطینیوں کے نصب العین کو تاریخ کے اندھیروں میں غرق کرنا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کی دستاویزات چیخ چیخ کر اس ہولناک گراوٹ کی گواہی دے رہی ہیں جو قابض دشمن کی جانب سے فلسطینی بیانیے کو کچلنے کے لیے روا رکھی گئی ہے۔
ایک مٹتی ہوئی بستی اور لہو رنگ صحافت
سرکاری میڈیا آفس کے فراہم کردہ لرزہ خیز اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ گذشتہ 30 ماہ سے جاری قابض اسرائیل کی نسل کشی کی مہم فلسطینی صحافت کا تاریک ترین اور خونی باب ثابت ہوئی ہے۔ اب تک 262 سے زائد صحافی مرد و خواتین اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ یہ وہ نفوسِ قدسیہ تھے جنہیں اس وقت گولیوں اور بموں سے چھلنی کیا گیا جب وہ دنیا کو قابض دشمن کی سفاکیت دکھا رہے تھے۔ دشمن نے صحافی کو محض ایک خبر رساں نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک ایسی دیوار سمجھا جسے گرانا اس کی نسل کشی کی راہ میں ناگزیر تھا۔
آج غزہ کی پٹی میں صحافتی کوریج کے تمام انسانی اور پیشہ وارانہ تقاضے دم توڑ چکے ہیں۔ ہر طرف برستی آگ، مواصلات کی جان بوجھ کر کی گئی بندش اور میڈیا دفاتر کے ملبے نے صحافیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ یہ سرفروش صحافی بغیر کسی حفاظتی ڈھال اور آلات کے، بھوک اور خوف کے سائے میں محض اپنے عزم کے سہارے انسانیت پر ڈھائے جانے والے مظالم کی دستاویز بندی کر رہے ہیں۔
قلم کے وہ شہدا جو خود تاریخ بن گئے
اس خونی معرکے میں ایسے جرات مند نام سامنے آئے جنہوں نے اپنی کیمرے کی آنکھ سے دشمن کی بربریت کو محفوظ کیا اور خود شہادت کے رتبے پر فائز ہو کر امر ہو گئے۔ انس الشریف، محمد قریع، حسام شبات، محمد سلامہ، مریم ابو دقہ، فاطمہ حسونہ اور محمد التلمس جیسے نام اب فلسطین کے اس دردناک منظر نامے کا حصہ ہیں جہاں گواہ ہی مقتول بن جاتا ہے۔ ان کی شہادتیں اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ جہاں عالمی قوانین گونگے اور بہرے ہو جائیں، وہاں حق گوئی کی قیمت اپنے لہو سے چکانی پڑتی ہے۔
قید و بند کی صعوبتیں اور جبری گمشدگی کا کرب
قابض اسرائیل نے صرف قتل و غارت گری پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فلسطینی آوازوں کا گلا گھونٹنے کے لیے اغوا اور گرفتاریوں کا جال بھی بچھا رکھا ہے۔ اب تک 240 سے زائد صحافیوں کو اغوا کیا گیا جن میں سے 40 سے زائد تاحال قابض صہیونی عقوبت خانوں کی تاریک کوٹھڑیوں میں اذیت ناک دن گزار رہے ہیں۔ ان میں 20 صحافی ایسے ہیں جنہیں کسی بھی جرم یا مقدمے کے بغیر “انتظامی حراست” کے نام پر قید رکھا گیا ہے، جس میں چار خواتین صحافی بھی شامل ہیں۔ صحافی اسلام عمارنہ کا دہیشہ کیمپ سے اغوا اس بات کی علامت ہے کہ قابض دشمن حق کی ہر آواز سے کتنا خوفزدہ ہے۔
غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 14 صحافی اب بھی پسِ دیوارِ زنداں ہیں، جبکہ نضال الوحیدی اور ہیثم عبد الواحد جیسے جیالے “جبری گمشدگی” کی دھند میں کہیں کھو گئے ہیں۔ ان کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہ کرنا اس گھناؤنی سازش کا حصہ ہے کہ سچ کے گواہوں کو منظرِ عام سے ہمیشہ کے لیے غائب کر دیا جائے۔
قابض صہیونی عقوبت خانوں میں موت کا رقص اور طبی سفاکیت
قید خانوں کی دیواروں کے پیچھے جو کچھ ہو رہا ہے وہ انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ اسیر صحافیوں کو جسمانی تشدد، نفسیاتی اذیت، فاقہ کشی اور علاج سے محروم رکھ کر موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔ مارچ سنہ 2026ء میں مجدو جیل کے اندر صحافی مروان حرز اللہ کی شہادت اسی دانستہ طبی غفلت کا نتیجہ تھی۔ اسیر صحافی مجاہد بنی مفلح کا دماغی ہیمرج کی حالت میں رہا ہونا اور علی سمودی کا ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جانا اس بات کی گواہی ہے کہ قابض اسرائیل کی جیلیں دراصل موت کے مراکز بن چکی ہیں۔
آزادیِ اظہار پر آہنی پہرے
قابض دشمن نے مقبوضہ بیت المقدس اور دیگر علاقوں میں صحافیوں کے لیے زمین تنگ کر دی ہے۔ سمیہ جوابرہ اور بیان الجعبہ جیسی نڈر خواتین صحافیوں کو گھروں میں نظر بند کرنا، کوریج سے روکنا اور مسلسل تعاقب کرنا اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت فلسطینی سرزمین پر ہونے والے مظالم پر خاموشی کی چادر تانی جا رہی ہے۔ دشمن کی یہ کوشش ہے کہ کوئی بھی ایسی آنکھ باقی نہ رہے جو گریٹر اسرائیل کے مذموم خواب کی راہ میں رکاوٹ بنے۔
عالمی ضمیر کا امتحان اور قانونی چارہ جوئی
انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے خلاف “اشتعال انگیزی” جیسے فرضی الزامات کے تحت کی جانے والی کارروائیاں عالمی چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ قانونی ماہرین ان مظالم کو “جنگی جرائم” اور “انسانیت کے خلاف جرائم” قرار دے رہے ہیں۔ اب یہ عالمی برادری اور بین الاقوامی عدالتوں کا امتحان ہے کہ کیا وہ قابض اسرائیل کو اس کے ہولناک جرائم کی سزا دے پاتے ہیں یا نہیں۔
ٹوٹا ہوا میڈیا ڈھانچہ اور حقائق کا قتلِ عام
غزہ کی پٹی میں میڈیا کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ درجنوں اخبارات، چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز کی تباہی کے بعد اب صحافیوں کا براہِ راست شکار کیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ غزہ میں جاری نسل کشی کی صحیح تصویر دنیا تک نہ پہنچ سکے اور قابض اسرائیل اپنے سیاہ کرتوتوں کو پروپیگنڈے کی دھول میں چھپا سکے۔
مظلوموں کی پکار اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ
فلسطینی اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اسیر صحافیوں کو فوری رہا کیا جائے اور لاپتہ صحافیوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں کو اب لفاظی سے نکل کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ان ہاتھوں کو روکا جا سکے جو قلم توڑ رہے ہیں اور سچ بولنے والی زبانیں خاموش کر رہے ہیں۔ صحافیوں کا تحفظ دراصل سچائی کا تحفظ ہے اور سچائی کا قتلِ عام پوری انسانیت کا قتل ہے۔
