تیونس/بارسلونا – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جمعہ کے روز دنیا کے مختلف ممالک سے “گلوبل صمود فلوٹیلا 2” غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے کے مقصد سے فریڈم فلوٹیلا اتحاد کے تحت روانہ ہو گیا ہے۔
اس بحری بیڑے میں 70 سے زائد کشتیاں اور جہاز شامل ہیں جو بحیرہ روم کے مختلف مقامات بالخصوص بارسلونا اور تیونس کی بندرگاہوں سے روانہ ہوئے ہیں۔
اس انسانی ہمدردی کی مہم میں 100 سے زائد ممالک کے تقریباً 3,000 انسانی حقوق کے علمبردار شریک ہیں جن میں اراکین پارلیمنٹ، انسانی حقوق کے کارکنان اور بین الاقوامی شخصیات شامل ہیں۔
اس فلوٹیلا میں ایک خصوصی طبی یونٹ بھی شامل ہے جس میں 1,000 طبی عملہ اور ماہرین موجود ہیں جو اپنے ساتھ جدید طبی آلات اور ضروری سامان لے کر جا رہے ہیں تاکہ غزہ کی پٹی کے تباہ حال طبی نظام کو سہارا دیا جا سکے۔
منتظمین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تحریک صرف بحری راستے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں زمینی راستہ بھی شامل ہے جسے “قافلہ صمود 2” کا نام دیا گیا ہے، جو الجزائر سے روانہ ہو کر تیونس اور لیبیا سے ہوتا ہوا رفح سرحد تک پہنچے گا۔
فلوٹیلا کے ذمہ داران نے واضح کیا کہ اس مشن کا انسانی مقصد ایک ایسا پائیدار سویلین بحری راہداری قائم کرنا ہے جو فوجی رکاوٹوں سے بالا تر ہو کر خوراک، ادویات اور تعمیراتی سامان کی غزہ میں بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت متعدد عالمی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے کی ضمانت دی جائے اور ماضی کی طرح اسے روکنے یا نشانہ بنانے جیسے اقدامات سے باز رہا جائے۔
دوسری جانب محاصرہ توڑنے والی عالمی کمیٹی کے چیئرمین زاہر بیراوی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ فلوٹیلا “پرامن شہری مزاحمت” کا ایک ذریعہ ہے جس کا مقصد عالمی برادری پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ غزہ کے ظالمانہ محاصرے کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔
