Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ: زخمیوں کے اغوا کی کوشش پر سکیورٹی کا بروقت ایکشن

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مزاحمتی سکیورٹی نے جمعہ کے روز غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں واقع شہداء الاقصیٰ ہسپتال کے اندر تخریب کاری کی ایک خطرناک کوشش کو ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ہسپتال کے اندر زیر علاج زخمیوں اور مریضوں کو اغوا کرنا تھا۔

مزاحمتی سکیورٹی نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ دشمن کے آلہ کاروں کے گروہوں نے عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ہسپتال پر دھاوا بولنے کی منصوبہ بندی کی تھی تاکہ وہاں موجود زخمیوں کو اغوا کر کے قابض اسرائیل کے حوالے کیا جا سکے۔

بیان میں اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ مذموم منصوبہ قابض اسرائیل کی انٹیلی جنس کی براہ راست ہدایت پر تیار کیا گیا تھا، جبکہ انٹیلی جنس کے ایک افسر نے اس گروہ کو آپریشن کے دوران فضائی تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ بھی کر رکھا تھا۔

اسی سیاق میں مقاومتی سکیورٹی نے قابض اسرائیل کی انٹیلی جنس کے لیے جاسوسی کرنے والے ایک ملزم کی گرفتاری کا انکشاف کیا ہے جس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے ہسپتال کے اندر زخمیوں کے کمروں کے مقامات کی تصاویر لی تھیں تاکہ اغوا کے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

مزاحمتی سکیورٹی کے ایک رہنما نے ملزم کی گرفتاری میں عام شہریوں کے تعاون اور جرات مندانہ کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس عوامی اشتراک نے صہیونی سازش کو بے نقاب کرنے اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

رہنما نے عہد کیا کہ غداروں اور آلہ کار گروہوں کا تعاقب جاری رکھا جائے گا اور شہریوں کے قتل، انہیں ہراساں کرنے اور ان کی املاک کی لوٹ مار جیسے جرائم پر ان کا سخت احتساب کیا جائے گا، انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی کسی بھی کوشش کے دوبارہ ہونے کی صورت میں ان کے ساتھ غیر معمولی سختی سے نمٹا جائے گا۔

مزاحمت کا موقف ہے کہ یہ بزدلانہ کوشش دراصل جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے اور غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کے لیے قابض اسرائیل کی مکارانہ چالوں کا ایک حصہ ہے۔

واضح رہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے قابض اسرائیل نے امریکہ اور یورپ کی پشت پناہی میں غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا بازار گرم کر رکھا ہے جس میں قتل و غارت، بھوک و افلاس، تباہی، جبری نقل مکانی اور گرفتاریاں شامل ہیں، اور یہ سب کچھ عالمی اپیلوں اور عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو پس پشت ڈال کر کیا جا رہا ہے۔

فلسطینیوں کی اس نسل کشی کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ 44 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے، جبکہ 11 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں، اس کے علاوہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور قحط کی وجہ سے بے شمار جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ غزہ کی پٹی کے تمام شہر اور علاقے وسیع پیمانے پر تباہی کا شکار ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan