Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

مقبوضہ بیت المقدس

مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ، 70 ہزار افراد کی شرکت

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر اور اس کے داخلی دروازوں کے گرد قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے عائد کردہ سخت ترین پابندیوں اور رکاوٹوں کے سائے میں تقریباً 70 ہزار نمازیوں نے مسجد اقصی مبارک میں نماز جمعہ ادا کی۔

القدس گورنری نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی افواج نے مسجد اقصی سے بے دخل کیے گئے فلسطینیوں جن میں نظام ابو رموز، بزرگ خاتون نفیسہ خویص اور سماجی کارکن محمد ابو الحمص شامل ہیں، انہیں طریق المجاہدین کے علاقے سے زبردستی نکالا اور قدیم شہر کی فصیلوں سے باہر دھکیلتے ہوئے مسجد اقصی کے اندر نماز ادا کرنے سے روک دیا۔

اسی تناظر میں قابض اسرائیلی بلدیہ کے عملے نے باب الساہرہ کے قریب کھڑی نمازیوں کی موٹر سائیکلوں کے بھاری چالان کیے جو کہ عبادت گزاروں کو ہراساں کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کے لیے ایک سفاکانہ اور امتیازی کارروائی ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیلی افواج اور انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے بڑھتی ہوئی سفاکیت اور حملوں کے جواب میں مسجد اقصی کی جانب بڑے پیمانے پر رخ کرنے اور آج نماز جمعہ کے لیے بھرپور عوامی اجتماع کی اپیلیں کی گئی تھیں۔

ان عوامی اپیلوں میں مسجد اقصی میں اعتکاف اور پہرہ دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا اور اس بات پر اصرار کیا گیا کہ مسجد مبارک میں فلسطینیوں کی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے ہر لمحے کا فائدہ اٹھایا جائے تاکہ اسے یہودیت کے رنگ میں ڈھالنے کے بڑھتے ہوئے مذموم صہیونی منصوبوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

مزید برآں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مسجد اقصی میں نمازیوں کے یہ عظیم الشان اجتماعات دراصل قبلہ اول کے دفاع کا سب سے بڑا پیغام ہیں اور یہ اپنے مقدس مقام پر فلسطینیوں کے مذہبی و تاریخی حق کی ناقابل تردید گواہی دیتے ہیں۔

یہ صورتحال ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آئی ہے جب انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے مسجد اقصی کی بے حرمتی اور دراندازی کے واقعات میں اضافے کے حوالے سے مسلسل انتباہ جاری کیا جا رہا ہے، جہاں وہ مختلف مذہبی بہانوں کا سہارا لے کر مسجد اقصی کی اسلامی شناخت اور موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

مسجد اقصی کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کے صحنوں میں آبادکاروں کی دراندازی اور ان کے اشتعال انگیز اقدامات دراصل نئے حقائق مسلط کرنے کی مذموم کوششوں کا ایک تسلسل ہے، انہوں نے واضح کیا کہ نام نہاد یوم آزادی کے موقع پر کی جانے والی یہ دراندازیاں نہ تو پہلی ہیں اور نہ ہی آخری ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبادکار اپنی دراندازی کے دوران دیدہ دلیری سے تلمودی رسومات ادا کرتے ہیں اور قابض اسرائیل کے جھنڈے لہرانے کے ساتھ ساتھ مسجد کے صحنوں میں شور و غل مچانے جیسی حرکات کرتے ہیں تاکہ اس مقدس اسلامی مقام پر ایک نیا غاصبانہ تشخص مسلط کیا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan