Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مقبوضہ بیت المقدس میں نیا منصوبہ، شیخ جراح میں یہودی مدرسہ قائم کرنے کی منظوری

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس کے محلے شیخ جراح میں ایک بہت بڑا انتہا پسند “حریدی” یہودی مذہبی مدرسہ (یشیوا) قائم کرنے کے منصوبے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

القدس گورنری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے اس منصوبے کی منظوری دراصل علاقائی سطح پر جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکہ و قابض اسرائیل کی جنگ میں عالمی توجہ کے ہٹ جانے کا واضح فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے تاکہ شہر میں نئے حقائق مسلط کرنے کے استعماری منصوبوں کو خاموشی سے گزارا جا سکے۔

بیان میں اشارہ کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیل کی میونسپلٹی سے وابستہ نام نہاد “صوبائی منصوبہ بندی کمیٹی” نے گذشتہ پیر کے روز انسانی حقوق کی تنظیموں کے تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے شیخ جراح کے قلب میں “اور سومیاخ” نامی یہودی مدرسہ قائم کرنے کے منصوبے کی منظوری دی، جو کہ فلسطینی محلوں میں استعماری موجودگی کو مضبوط بنانے کی قابض دشمن کی ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں کا عکاس ہے۔

جاری کردہ بیان کے مطابق اس منصوبے میں محلے کے جنوبی داخلی راستے پر مسجد شیخ جراح کے عین سامنے تقریباً 5 دونم زمین پر 11 منزلہ ایک بہت بڑی عمارت کی تعمیر شامل ہے، جس میں سینکڑوں انتہا پسند حریدی طلبہ کے لیے ہاسٹل اور تدریسی عملے کے لیے رہائشی یونٹس بھی بنائے جائیں گے، جو کہ اس علاقے میں خطرناک جغرافیائی اور آبادیاتی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔

گورنری نے اس بات پر زور دیا کہ محلہ شیخ جراح مقبوضہ بیت المقدس کے نمایاں ترین اور اہم ترین محلوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ قدیم شہر کی فصیلوں سے باہر پہلا فلسطینی محلہ ہے، اس میں کئی اہم فلسطینی قومی مراکز موجود ہیں جیسے کہ “بیت الشرق” جو کہ سنہ 2003ء میں قابض حکام کی جانب سے بند کیے جانے سے قبل فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کا ہیڈ کوارٹر تھا، اس کے علاوہ یہاں فلسطینی نیشنل تھیٹر اور کئی سفارتی مشنوں کے دفاتر بھی واقع ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ محلہ قابض دشمن کی پالیسیوں کا مرکزی ہدف بنا ہوا ہے۔

بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ اس محلے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ استعماری پالیسی کی بدترین شکل ہے اور یہ “مکمل جبری بے دخلی” کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ قابض اسرائیل ایک ایسے دوہرے قانونی نظام پر تکیہ کیے ہوئے ہے جو غاصب آباد کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جبکہ دوسری طرف یہی نظام فلسطینیوں کو کچلنے اور ان کے حقوق چھیننے کے لیے بطور ہتھیار استعمال ہوتا ہے۔

گورنری نے واضح کیا کہ فلسطینی محلوں اور بالخصوص شیخ جراح کے قلب میں نام نہاد تلمودی اکیڈمیوں کا قیام کوئی تعلیمی منصوبہ نہیں ہے جیسا کہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، بلکہ یہ عرب محلوں کو یہودیانے اور فلسطینی باشندوں پر دباؤ ڈال کر انہیں ہجرت پر مجبور کرنے کے سیاسی اوزار ہیں، جس کے ساتھ ساتھ فلسطینی محلوں میں مکانات کی مسماری اور بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کی پالیسی بھی جاری ہے۔

القدس گورنری نے اس بات پر زور دیا کہ اس منصوبے کو ان تیز رفتار استعماری منصوبوں سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا جو اس محلے، خاص طور پر ام ہارون اور شمالی شیخ جراح کے علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جہاں درجنوں فلسطینی خاندانوں کو غاصب آباد کار انجمنوں کے حق میں اپنے گھروں سے بے دخلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔

بیان کے آخر میں کہا گیا کہ ان ظالمانہ پالیسیوں پر بین الاقوامی برادری کی خاموشی قابض حکام کو زمین پر حقائق مسلط کرنے کی مزید شہ دے رہی ہے، گورنری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کا دفاع اب محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک قانونی، انسانی اور اخلاقی جنگ ہے جس کے لیے فوری اور سنجیدہ عالمی اقدام کی ضرورت ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan