مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں مسماری اور بلڈوزنگ کی اپنی وحشیانہ کارروائیاں جاری رکھیں جس میں فلسطینی کسانوں کی زرعی تنصیبات اور پانی کے اہم بنیادی ڈھانچے کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا جس سے عوامی املاک اور زمینوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
بیت لحم کے مغرب میں واقع بیت جالا شہر میں غاصب صہیونی دشمن کی افواج نے قصبہ الخضر کے مشرقی داخلی راستے پر واقع ایک فلسطینی شہری زیاد حسین دار عیسیٰ کا برکس بغیر لائسنس کے تعمیر کا بودا بہانہ بنا کر زمین بوس کر دیا۔
اسی انتقامی کارروائی کے تسلسل میں قابض اسرائیلی افواج نے بیت لحم کے شمال مغربی گاؤں الولجہ میں ایک اور فلسطینی شہری ولید عطا رباح کا زرعی کمرہ بھی بغیر لائسنس کا وہی پرانا بہانہ تراش کر مسمار کر دیا جو کہ اس خطے میں فلسطینیوں کے زرعی وجود اور ان کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنے کی ایک منظم صہیونی پالیسی کا حصہ ہے۔
شمالی وادی اردن میں قابض اسرائیلی افواج نے اپنی سفاکیت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے طوباس کے جنوب مشرق میں واقع گاؤں عاطوف میں زرعی پانی کی لائنوں اور نیٹ ورک کو ملیا میٹ کر دیا جس کی وجہ سے سینکڑوں دونم زرعی اراضی کو پانی کی فراہمی مکمل طور پر منقطع ہو گئی۔ مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری توڑ پھوڑ کی ان مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں عاطوف اور سہل البقیعہ کے علاقوں میں تقریباً 12 ہزار دونم اراضی پانی کے ذرائع سے محروم ہو چکی ہے۔
یہ تمام جابرانہ اقدامات قابض دشمن کے اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں جو سال کے آغاز سے صوبہ طوباس میں فلسطینیوں کے خلاف نافذ کیا جا رہا ہے جس میں فوجی سڑکوں کا جال بچھانا اور فلسطینی شہریوں کی نجی زمینوں پر علیحدگی پسند دیوار کی تعمیر شامل ہے۔ اس نسل پرستانہ منصوبے کو سرخ دھاگا (الخيط القرمزي) کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت اب تک 1042 دونم سے زائد اراضی کو غصب کیا جا چکا ہے جبکہ خدشہ ہے کہ اس دیوار کے پیچھے فلسطینیوں کی ہزاروں دونم زمین الگ تھلگ ہو کر رہ جائے گی۔
مغربی کنارے میں ہونے والی ان سنگین خلاف ورزیوں میں تیزی ایک ایسی منظم پالیسی کی جانب اشارہ کرتی ہے جس کا واحد مقصد فلسطینیوں کے زرعی شعبے کو مفلوج کرنا اور خاص طور پر علاقہ سی کے طور پر درجہ بندی کیے گئے علاقوں میں نئے حقائق مسلط کر کے فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کی زمینوں پر غاصبانہ قبضے کو دوام بخشنا ہے۔
