Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

صور میں اسرائیلی بمباری سے 80 سالہ بزرگ فلسطینی خاتون شہید

صور – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) شاید فلسطینی مجاہدہ مہا ابو خلیل کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ زندگی کی آٹھ دہائیاں گزارنے کے بعد وہ قابض اسرائیل کا نشانہ بنیں گی لیکن ظلم اور انتقام کی بنیاد پر قائم غاصب صہیونی ریاست نے لبنان پر وحشیانہ بمباری کے ایک جرم میں انہیں شہید کر دیا۔

آدھی رات کا وقت قریب تھا اور صور شہر سہمے ہوئے ماحول میں منتظر تھا۔ اس شہر کے ایک گوشے میں جسے انہوں نے قابض اسرائیل کی 45 روزہ مسلسل بمباری کے باوجود چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا مجاہدہ مہا ابو خلیل اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہی تھیں۔

وہ اس حقیقت سے بے خبر تھیں کہ محض چند منٹ بعد جنگ بندی کا اعلان ہونے والا ہے۔ کسی کے ذہن میں یہ خیال تک نہ آیا کہ آخری فضائی حملہ بیک وقت چار رہائشی عمارتوں کو ملیا میٹ کر دے گا اور وہ اسّی سالہ خاتون جس کے سینے میں تاریخ کے بے شمار راز اور جذبے دفن تھے ملبے تلے دب جائیں گی۔

قابض اسرائیل نے مجاہدہ ابو خلیل کو 17 اپریل سنہ 2026ء کی شام جنگ بندی کے اعلان سے چند منٹ قبل صور شہر پر ایک فضائی حملے میں شہید کیا۔ اس حملے میں چار رہائشی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور وہ ملبے تلے دبنے والے لاپتہ افراد میں شامل ہو گئیں۔

قلیلہ کی بیٹی

مہا ابو خلیل سنہ 1946ء میں صور شہر میں پیدا ہوئیں اور ان کی پرورش قلیلہ میں ہوئی جو جنوبی لبنان کے ضلع صور میں مٹی سے جڑا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جہاں زمین، شناخت اور یادیں اس طرح آپس میں پیوست ہیں کہ انہیں جدا کرنا ناممکن ہے۔

فلسطینی نصب العین جنوبی لبنان کے باسیوں سے کبھی دور نہیں رہا۔ یہ ہر گفتگو، ہر کیمپ اور سرحد پار سے ریڈیو کے ذریعے آنے والی ہر خبر میں موجود تھا۔

اسی ماحول میں مہا کے شعور نے آنکھ کھولی اور انہوں نے پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے پلیٹ فارم سے اپنے یقین اور مزاحمتی عمل کو یکجا پایا۔

وہ پاپولر فرنٹ میں شامل ہوئیں اور خاص طور پر آنجہانی مجاہد ودیع حداد کی قیادت میں خارجی شعبے کا حصہ بنیں۔ انہوں نے آغاز ہی میں یہ یقین کر لیا تھا کہ مسئلہ فلسطین ایک قومی اور انسانی مسئلہ ہے جو جغرافیائی حدود سے ماورا ہے۔

ایتھنز سنہ 1969ء: سلاخوں کے پیچھے فتح کا نشان

دسمبر سنہ 1969ء میں مہا کی عمر صرف تئیس برس تھی جب انہوں نے وہ جرات مندانہ قدم اٹھایا جس کی ہمت بہت کم خواتین کر پاتی ہیں۔ انہوں نے یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ قابض اسرائیل کی فضائی کمپنی ایل عال کے طیارے کو کنٹرول کرنے کی کارروائی میں حصہ لیا۔

طیارے پر سوار ہوتے وقت مہا ابو خلیل کو ان کے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا اور یونان میں ان پر غیر قانونی طور پر دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔

لیکن عدالت کے کیمروں نے وہ منظر قید کر لیا جس کی استغاثہ کو توقع نہ تھی۔ ایک پروقار اور پر اعتماد خاتون ججوں کے سامنے فتح کا نشان بنا رہی تھی۔ وہ ایک ملزمہ نہیں بلکہ ایک ایسی انقلابی لگ رہی تھی جو اس پلیٹ فارم سے اپنا موقف واضح کرنے آئی ہو۔

انہیں اگست سنہ 1970ء میں اس وقت رہا کیا گیا جب پاپولر فرنٹ نے پاپولر اسٹرگل فرنٹ کے ساتھ مل کر جولائی سنہ 1970ء میں یونانی فضائی کمپنی کے ایک طیارے کو ہائی جیک کر کے یونان میں قید کئی اسیروں کو آزاد کرانے میں کامیابی حاصل کی۔

رہائی کے بعد مہا نے عمان میں ایک پریس کانفرنس کی اور پہلے سے زیادہ مضبوط عزم کے ساتھ میدانِ جدوجہد میں واپس لوٹ آئیں۔

ابلاغ عامہ میں ڈاکٹریٹ

مہا ابو خلیل کے نزدیک مزاحمت صرف گولی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک نظریہ بھی تھا۔ انہوں نے گذشتہ صدی کی ستر کی دہائی کے اواخر میں چیک جمہوریہ کی ایک یونیورسٹی سے ابلاغ عامہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور وہ دارالحکومت پراگ میں اپنے شوہر کے ہمراہ رہیں جو وہاں عراق کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔

اس دور کے اشتراکی پراگ میں انہوں نے دنیا بھر کے دانشوروں سے ملاقاتیں کیں اور افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیا کی آزادی کی تحریکوں کے تجربات سے استفادہ کیا۔

جنوب کی جڑوں کی جانب واپسی

بیروت، پراگ، عمان اور جدوجہد کے مختلف میدانوں میں ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد مہا صور میں سکونت پذیر ہو گئیں۔ وہ روزانہ اپنے رفقاء سے رابطے اور حالاتِ حاضرہ پر نظر رکھتی تھیں اور زندگی کی آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود وہ حقائق سے دور نہیں ہوئی تھیں۔

انہوں نے امام موسیٰ صدر کے اداروں میں کام کیا اور ان اداروں کی انتظامیہ میں ان کا کردار اس پختہ یقین کا حصہ تھا کہ پڑھے لکھے اور با شعور انسان کی تعمیر ہی مختلف ذرائع سے مزاحمت کا تسلسل ہے۔

وہ فتح کے حتمی ہونے پر یقین رکھتی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ بندوق کو سیاسی پروگرام کے ساتھ ہونا چاہیے کیونکہ مسلح جدوجہد اور سیاسی کام ایک پرندے کے دو پروں کی مانند ہیں جنہیں الگ نہیں کیا جا سکتا۔

جب گذشتہ خریف میں لبنان پر جنگ مسلط ہوئی تو انہوں نے شہر چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ صور پر بمباری ہو رہی تھی، لوگ نقل مکانی کر رہے تھے لیکن مہا وہیں رہیں۔ یہ کوئی ضد نہیں تھی بلکہ اپنی مٹی سے وابستگی کا وہ اظہار تھا جو انتہائی کٹھن حالات میں سامنے آتا ہے۔

فیصلہ کن لمحات

جمعہ 17 اپریل سنہ 2026ء کی شام ہر کوئی جانتا تھا کہ جنگ بندی ہونے والی ہے۔ مذاکرات مکمل ہو چکے تھے اور اعلان میں چند منٹ باقی تھے لیکن غاصب صہیونی فضائیہ نے انتظار نہیں کیا۔

اسی لمحے اسرائیلی فضائی حملے نے صور کی چار رہائشی عمارتوں کو ملیا میٹ کر دیا اور مہا ابو خلیل کا جسدِ خاکی ملبے سے برآمد ہوا۔

چند گھنٹوں بعد سیز فائر کا اعلان کر دیا گیا اور لبنان میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوا لیکن صور کے ملبے تلے وہ خاتون ابدی نیند سو گئی تھی جس نے اپنے نحیف وجود میں ایک پوری نسل کی تاریخ سمیٹ رکھی تھی۔

پاپولر فرنٹ کا تعزیتی بیان

پاپولر فرنٹ اور اس کی قیادت نے فلسطینی عوام، عرب قوم اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کے نام اپنے تعزیتی بیان میں اس عظیم مجاہدہ، ماہر تعلیم اور سماجی شخصیت ڈاکٹر مہا ابو خلیل کی شہادت پر دکھ کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ شہید مہا ابو خلیل ایک ایسی مجاہد خاتون کا نمونہ تھیں جنہوں نے فکر، قومی وابستگی اور سماجی و تعلیمی کام کو یکجا کر دیا تھا۔ انہوں نے ابلاغ عامہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور ستر کی دہائی کے آخر میں پراگ کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی۔ ان کا یہ علمی اور فکری تجربہ ان کی گہری معرفت اور انسانی وسعت کا عکاس تھا جبکہ وہ پراگ میں عراق کے سفیر رہنے والے اپنے شوہر کے شانہ بشانہ رہیں۔

بیان کے مطابق ابو خلیل آغاز ہی سے فلسطینی نصب العین کی حامی جدوجہد کا حصہ بن گئی تھیں۔ انہوں نے سنہ 1970ء کے تاریخی مرحلے میں پاپولر فرنٹ کے خارجی شعبے کی سرگرمیوں اور ایتھنز کی فدائی کارروائی میں شرکت کی جس کا مقصد قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید فلسطینی اور عرب اسیروں کی رہائی تھا جو اس وقت فلسطینی انقلابی پروگرام کا ایک مرکزی حصہ تھا۔

پاپولر فرنٹ نے مزید کہا کہ انہوں نے قابض صہیونی دشمن کے خلاف فلسطین کے مسئلے کو ایک قومی اور انسانی مسئلہ قرار دیتے ہوئے سیاسی، انسانی اور ابلاغی محاذ پر مسلسل حمایت کے ذریعے اپنی گہری وابستگی کو ثابت کیا۔

فرنٹ نے واضح کیا کہ شہیدہ نے طویل عرصے تک سماجی اداروں میں کام کیا جہاں تعلقات عامہ، سماجی اور تعلیمی میدان میں ان کا بنیادی کردار تھا۔ انہوں نے کئی خواتین اساتذہ کی رہنمائی کی اور عوام کے ساتھ انسانی ہمدردی کے رویے کو رواج دیا۔

انہوں نے اپنے ہر جاننے والے پر گہرے اثرات چھوڑے اور وہ اپنی ہمدردی، شہداء کے خاندانوں اور غریبوں سے قربت کے حوالے سے جانی جاتی تھیں۔ وہ جنوبی لبنان میں ہمیشہ موجود رہیں اور قابض اسرائیل کی بار بار کی جنگوں کے دوران صور شہر میں ڈٹی رہیں اور بمباری و جارحیت کے باوجود اپنی زمین چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

قلیلہ میں الوداع

قلیلہ بستی نے اپنی شہیدہ کو الوداع کہا اور انہیں ان کے آبائی قصبے کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ جنازے کے موقع پر پانچ دہائیوں پر محیط ان کی خدمات اور قربانیوں کو یاد کیا گیا۔

سابق اردنی رکن پارلیمنٹ منصور سیف الدین مراد جنہوں نے مشترکہ جدوجہد کے برسوں میں انہیں قریب سے جانا تھا، کہا کہ وہ اعلیٰ ثقافت کی حامل اور نظریاتی طور پر وابستہ انسان تھیں جن کے وجدان اور ضمیر میں فلسطینی انقلاب بستا تھا۔

اسّی سال کی عمر میں مہا ابو خلیل نے بھاگتے ہوئے یا ہتھیار ڈالتے ہوئے جان نہیں دی بلکہ انہوں نے اپنے شہر اور اپنی مٹی پر شہادت کا رتبہ پایا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جنہوں نے انہیں قتل کیا وہ خون بہا کر جنگ کو الوداع کہہ رہے تھے جبکہ وہ اپنی پوری زندگی کی طرح ثابت قدم کھڑی رہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan