Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

یومِ اسیران عرب: قیدیوں کے حوالے سے صورتحال سنگین

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ہر سال 22 اپریل کو منایا جانے والا یومِ اسیران عرب ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر عرب اسیروں کی تعداد میں غیر معمولی اور تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ دن 17 اپریل کو فلسطینی یومِ اسیران منانے کے چند ہی روز بعد ایک ایسے کٹھن مرحلے پر آ رہا ہے جسے اسیران کی تحریک کی تاریخ کا سب سے زیادہ ظالمانہ اور سنگین ترین دور قرار دیا جا رہا ہے۔

کلب برائے اسیران نے ایک پریس بیان میں اس ہولناک صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کی سفاکانہ مہم کے بعد عرب اسیروں کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہو چکا ہے۔ بیان میں نشاندہی کی گئی ہے کہ حال ہی میں لبنان اور شام سے تعلق رکھنے والے درجنوں عرب باشندوں کو اغوا کر کے مرکزی جیلوں میں قید کر دیا گیا ہے جبکہ ان کی صحیح تعداد اور ان کے انجام کے حوالے سے قابض اسرائیل نے مکمل طور پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

قابض اسرائیلی حکام نے ان اسیروں پر دہری تنہائی مسلط کر دی ہے اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں و قانونی نمائندوں کو ان تک رسائی سے قطعی طور پر روک دیا گیا ہے۔ ان حالات میں یہ اسیر جبری گمشدگی، وحشیانہ تشدد، جان بوجھ کر فاقہ کشی پر مجبور کیے جانے اور تنہائی جیسی بدترین انسانیت سوز پامالیوں کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے ہیں۔

کلب برائے اسیران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عرب اسیروں کا معاملہ اسیران کی تحریک کی جدوجہد کا ایک اٹوٹ انگ ہے اور ان کی رہائی کا مطالبہ دراصل فلسطینی اسیروں کی آزادی کی عظیم جنگ کا ہی ایک حصہ ہے۔

موجودہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل سنہ 2026ء کے آغاز تک قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید فلسطینی و عرب اسیروں کی مجموعی تعداد 9 ہزار 600 سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں سے تقریباً نصف تعداد ان مظلوم اسیروں کی ہے جنہیں کسی بھی الزام یا مقدمے کے بغیر انتظامی حراست کی کالی پالیسی کے تحت پسِ دیوارِ زنداں دھکیلا گیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan