غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین کی وزارتِ تعلیم و اعلیٰ تعلیم نے غزہ کی پٹی کی گورنریوں میں موجود طلبہ کے لیے سیکنڈری سکول (توجیہی) امتحانات سنہ 2026ء میں شرکت کی خاطر آن لائن رجسٹریشن کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام تعلیمی عمل کے تسلسل کو یقینی بنانے اور طلبہ کو ان کا تعلیمی سفر مکمل کرنے کے قابل بنانے کی کوششوں کے فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے تاکہ غاصب صہیونی دشمن کی جانب سے تعلیمی ڈھانچے کی تباہی کے باوجود فلسطینی نسل کے مستقبل کو بچایا جا سکے۔
وزارت نے آج پیر کے روز جاری کردہ ایک پریس بیان میں واضح کیا کہ رجسٹریشن میں طلبہ کی مخصوص کیٹیگریز شامل ہیں جن میں سرفہرست وہ تمام طلبہ ہیں جنہوں نے تعلیمی سال سنہ 2024/2025ء کے دوران گیارہویں جماعت کامیابی سے مکمل کی ہے۔ اس کے علاوہ ان طلبہ کو بھی موقع دیا گیا ہے جو سنہ 2024ء اور سنہ 2025ء کے سیکنڈری سکول امتحانات میں کامیابی کے تقاضے پورے نہیں کر سکے تھے اور وہ طلبہ بھی شامل ہیں جنہوں نے سنہ 2023ء کے سیشن میں شرکت کی تھی مگر کامیاب نہ ہو پائے تھے۔
وزارت نے مزید اشارہ کیا کہ اس رجسٹریشن میں وہ طلبہ بھی شامل ہو سکتے ہیں جنہوں نے سنہ 2023ء اور سنہ 2024ء میں گیارہویں جماعت مکمل کی تھی لیکن اس سے قبل امتحانات میں شرکت نہیں کی تھی، بشرطیکہ وہ ضابطے کے مطابق متعلقہ تعلیمی ڈائریکٹوریٹ کے امتحانی شعبوں سے رجوع کریں۔
وزارت کے مطابق رجسٹریشن کا عمل منگل 21 اپریل سنہ 2026ء سے شروع ہوگا اور جمعرات 7 مئی سنہ 2026ء کو دفتری اوقات کے اختتام تک جاری رہے گا۔ یہ عمل خصوصی طور پر منظور شدہ آن لائن لنک کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔
وزارت نے طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ رجسٹریشن کے دوران مخصوص اقدامات پر سختی سے عمل کریں جن میں شناختی کارڈ نمبر اور تاریخِ پیدائش کا اندراج، تعلیمی شعبے اور تخصص کا تعین، پاسپورٹ کی موجودگی کی صورت میں انگریزی میں نام کا ویسا ہی اندراج جیسا پاسپورٹ پر موجود ہے، نیز رہائش کے پتے کا درست اندراج شامل ہے تاکہ طلبہ کو ان کی قیام گاہوں کے قریب ترین امتحانی مراکز میں تقسیم کیا جا سکے اور رابطے کے لیے درست فون نمبر کا اندراج بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
وزارت نے ڈیٹا کے اندراج میں مکمل درستگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ ترمیم صرف رجسٹریشن کی مقررہ مدت کے دوران ہی ممکن ہوگی۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تعلیمی عمل کو مطلوبہ معیار کے مطابق چلانے کے لیے ہدایات پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔
