Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

رفح کراسنگ کی بندش، ہزاروں مریض اور طلبہ سفر سے محروم

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سرکاری ترجمان حازم قاسم نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیل نے گزرگاہوں کی بندش اور رفح کراسنگ کے ذریعے امداد کی آمد اور مسافروں کی تعداد کو کنٹرول کر کے غزہ کی پٹی کا محاصرہ مزید سخت کر رکھا ہے۔

حازم قاسم نے ایک ویڈیو بیان میں واضح کیا کہ قابض اسرائیل نے امدادی سامان کی آمد پر شدید پابندیوں کے ساتھ ساتھ رفح کراسنگ کو بند کر رکھا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ قابض دشمن امدادی ٹرکوں کی اس تعداد کو داخل کرنے کے وعدے پر عمل نہیں کر رہا جس پر اتفاق ہوا تھا بلکہ نصف سے بھی کم ٹرک بھیجے جا رہے ہیں جبکہ مسافروں کی تعداد پر بھی اپنی مرضی مسلط کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بیان کیا کہ قابض اسرائیل غزہ کی پٹی میں بھوک کے ذریعے نسل کشی یا ہندسہ تجویع (ہندسة التجويع) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس کے نتیجے میں بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ بھوک کی شدت میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بمباری اور قتل و غارت گری جیسی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جیسا کہ آج فجر کے وقت بھی کیا گیا۔

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ قابض اسرائیل کی جانب سے عالمی قوانین کی منظم خلاف ورزیوں پر مبنی پالیسی ہے، جس کے خلاف ثالثوں، ضامن ممالک اور نام نہاد امن کونسل کی جانب سے ایک حقیقی موقف کی ضرورت ہے تاکہ ان مظالم کو روکا جا سکے اور نسل کشی کے دو سال مکمل ہونے کے بعد اب غزہ کی پٹی سے محاصرہ ختم کیا جائے۔

دوسری جانب حکومتی میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل الثوابتہ نے انکشاف کیا ہے کہ رفح کراسنگ سمیت تمام گزرگاہوں کی مسلسل بندش کے باعث غزہ کی پٹی میں انسانی بحران اپنی بدترین اور بے مثال سطح پر پہنچ گیا ہے۔

اسماعیل الثوابتہ نے آج پیر کے روز سند نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک خصوصی بیان میں توجہ دلائی کہ گزرگاہوں کی بندش کے باعث سفر کی نقل و حرکت مکمل معطل ہے جس سے خاص طور پر انسانی ہمدردی کے کیسز اور طلبہ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ 22 ہزار سے زائد بیمار اور زخمی ایسے ہیں جنہیں بیرون ملک علاج کے لیے فوری سفر کی ضرورت ہے۔ ان میں سے تقریبا 19 ہزار کیسز ایسے ہیں جنہوں نے تمام طبی کارروائیاں مکمل کر کے سرکاری ریفرل لیٹرز حاصل کر لیے ہیں لیکن وہ اب بھی روانگی کی اجازت کے انتظار میں پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کا تعلیمی مستقبل ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار ہے، حالانکہ انہوں نے غیر ملکی یونیورسٹیوں میں داخلے حاصل کر لیے ہیں اور سفر کی تمام شرائط بھی پوری کر رکھی ہیں۔

انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ رفح کراسنگ کے ذریعے روانہ ہونے والے مسافروں کی تعداد محض 3150 رہی ہے جبکہ معاہدوں کے مطابق 11600 افراد کو سفر کرنا تھا، یوں اس پر عمل درآمد کی شرح صرف 27 فیصد رہی۔

انہوں نے بتایا کہ قابض اسرائیل نے فروری سنہ 2026ء کے آغاز میں رفح کراسنگ کو جزوی طور پر دوبارہ کھولا تھا جہاں اکتوبر سنہ 2025ء میں نافذ ہونے والے سیز فائر یا جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تحت اسرائیلی شرائط اور سکیورٹی منظوریوں کے ساتھ مریضوں، زخمیوں اور کچھ فلسطینیوں کی واپسی کی اجازت دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ رفح کراسنگ غزہ کی پٹی کو قابض اسرائیل سے گزرے بغیر بیرونی دنیا سے جوڑنے والا واحد زمینی راستہ ہے۔ یہ راستہ مئی سنہ 2024ء سے قابض افواج کے کنٹرول میں ہے اور سنہ 2025ء کے اوائل میں اسے محض محدود مدت کے لیے کھولا گیا تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan