بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ میدانِ کارزار ہی ہمیشہ صاحبِ فیصلہ رہتا ہے، ان کا ماننا ہے کہ کامیاب سیاست وہی ہے جو میدان کے نتائج کو بروئے کار لاتے ہوئے قابض اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرے اور لبنان کے حقوق و خودمختاری کا تحفظ یقینی بنائے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ عارضی سیز فائر کا حصول جنوبی لبنان میں مزاحمت کاروں کی اس عظیم جدوجہد اور جہاد کے بغیر ممکن نہ تھا جس نے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مزاحمت نے عسکری طاقت کے عدم توازن کے باوجود اپنے ہتھیار، ایمان اور پختہ ارادے کے بل بوتے پر ثابت قدمی کی نئی مثال قائم کی ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ حالیہ جھڑپوں نے عسکری اہداف کے حصول میں قابض اسرائیل کی ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے، غاصب دشمن اپنے منصوبوں کے مطابق پیش قدمی کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے جبکہ مزاحمت کے جری جوان تمام تر خلاف ورزیوں کے باوجود اپنے مورچوں پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ہر لمحہ دشمن کو سبق سکھانے کے لیے تیار ہیں۔
نعیم قاسم نے مزاحمت کی پشت پناہی پر ایران اور دیگر تمام معاون قوتوں کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے سیز فائر کے معاملے میں سیاسی اور علاقائی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے امریکی وزارت خارجہ کے اس بیان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جو لبنانی حکومت کی منظوری کے بغیر لبنان کی ترجمانی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
انہوں نے دوٹوک موقف اپنایا کہ سیز فائر جامع اور دوطرفہ ہونا چاہیے، انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی خلاف ورزی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی راہداریوں میں طویل صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے سے اب تک وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے جن کی توقع کی جا رہی تھی۔
اپنے بیان کے اختتام پر شیخ نعیم قاسم نے واضح مطالبات پیش کیے جن میں صہیونی جارحیت کا مکمل خاتمہ، قابض افواج کا انخلا، اسیران کی رہائی، بے گھر افراد کی اپنے گھروں کو واپسی اور تباہ شدہ علاقوں کی تعمیرِ نو شامل ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حزب اللہ قومی وحدت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے لبنانی ریاست کے ساتھ تعاون کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات مکمل کی کہ مزاحمت کو نہ کبھی شکست ہوئی ہے اور نہ کبھی ہوگی، غاصب دشمن کے خلاف جدوجہد کا یہ راستہ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔
