تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی سپریم کورٹ نے انتہا پسند وزیر برائے داخلی سلامتی ایتمار بن گویر کے متعدد شعبوں میں اختیارات کو محدود کرنے کا حکم دیا ہے، جن میں نمایاں ترین قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تقرریاں اور پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال سے متعلق بیانات ہیں۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس فیصلے کے تحت مذکورہ وزیر قانون نافذ کرنے والے ادارے میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں صرف پولیس کی سفارش پر ہی کر سکیں گے، جبکہ انہیں حکومت کی قانونی مشیر کو اس بارے میں پیشگی اطلاع دینے کا بھی پابند کیا گیا ہے۔
عدالت نے اپنے جاری کردہ احکامات میں ایتمار بن گویر کو اسرائیلیوں کے خلاف پولیس کے طاقت کے استعمال یا جاری تحقیقات کے حوالے سے بیانات دینے سے بھی روک دیا ہے۔
عدالت نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو، ایتمار بن گویر اور حکومت کی قانونی مشیر گالی بہراف میارا کو ان فائلوں کے حوالے سے مفاہمت تک پہنچنے کے لیے سنہ 2026ء کے ماہ مئی کی تین تاریخ تک کی مہلت دی ہے، یہ حکم ان درخواستوں پر سماعت کے بعد دیا گیا جن میں مذکورہ وزیر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
توقع ہے کہ حکومت کی قانونی مشیر گذشتہ عرصے کے دوران اپنے اور ایتمار بن گویر کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی تمام متعلقہ مراسلت اور مسودات پیش کریں گی جو سابقہ معاہدوں تک پہنچنے کی کوششوں کے فریم ورک میں کیے گئے تھے۔
ہدایات کے متن کے مطابق پولیس کے اندر حساس تقرریاں، جن میں انویسٹی گیشن ڈویژن کے سربراہ، ادارے کے قانونی مشیر اور پراسیکیوشن ڈویژن کے سربراہ کے عہدے شامل ہیں، عدالت کے طے کردہ نئے فریم ورک کے تحت زیر بحث لائی جائیں گی۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اس سے قبل ایتمار بن گویر کا دفاع کیا تھا اور انہیں عہدے سے ہٹانے کی کوشش کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عدالت کو خبردار کیا تھا کہ وہ بغیر کسی قانونی جواز کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔
یہ معاملہ سنہ 2026ء کے ماہ جنوری سے چل رہا ہے جب عدالتی مشیر نے بنجمن نیتن یاھو کو ایتمار بن گویر کو برطرف کرنے کا پابند کرنے کا مطالبہ کیا تھا، ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ حساس تحقیقات میں مداخلت کر رہے ہیں اور اپنے عہدے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
