Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

ایتمار بن گویر کو وزارتِ قومی سلامتی سے ہٹانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست

تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی سپریم کورٹ نے بدھ کے روز قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کو ان کے عہدے سے برخاست کرنے سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت شروع کر دی ہے۔ یہ درخواستیں قابض پولیس کے معاملات میں ان کی بے جا مداخلت کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔

اس حوالے سے وزیر قانون یاریف لیوین نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ان درخواستوں پر سماعت غیر قانونی ہے اور عدالت کے کسی بھی فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ منطق پیش کی کہ کسی وزیر کی تعیناتی یا اسے عہدے سے ہٹانے کا قانونی اختیار صرف وزیر اعظم کے پاس ہے نہ کہ عدالت کے پاس، اور ایتمار بن گویر اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یتزحاق عَمیت نے لیوین کے دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اس سے قبل 16 مرتبہ کسی وزیر کی تعیناتی یا اسے عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر سماعت کر چکی ہے۔

سماعت کے دوران جج عوفر گروسکوپف نے ریمارکس دیے کہ اگر ایتمار بن گویر پولیس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں تو ممکن ہے کہ یہ وزیر اعظم کے مفاد کے مطابق ہو۔ دوسری جانب جج خالد کبوب نے نشاندہی کی کہ ایتمار بن گویر نے اس تحریری معاہدے کی درجنوں بار خلاف ورزی کی ہے جس پر انہوں نے دستخط کیے تھے اور جس کے تحت وہ پولیس کے کام میں مداخلت نہ کرنے کے پابند تھے۔

یہ درخواستیں شہریوں کے چار گروہوں نے بنجمن نیتن یاھو، ایتمار بن گویر اور حکومت کے خلاف جمع کرائی ہیں۔ سماعت سے قبل ججوں نے کارروائی میں خلل کے خدشے کے پیش نظر عوام کی شرکت پر پابندی لگا دی تھی، تاہم ارکانِ کنیسٹ اور صحافیوں کو شرکت کی اجازت دی گئی۔ یہ سماعت نو ججوں پر مشتمل ایک توسیعی بنچ کر رہا ہے اور اس کی کارروائی براہِ راست دکھائی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے فروری سنہ 2024ء میں ایتمار بن گویر کی بطور وزیر تعیناتی کے خلاف دائر درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ وزیر اعظم کو وزراء کے انتخاب کا وسیع اختیار حاصل ہے، تاہم اس وقت بھی عدالت نے ان کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی تھی۔

سماعت شروع ہونے سے قبل ایتمار بن گویر کے درجنوں حامیوں نے عدالت کے باہر مظاہرہ کیا اور ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر عدالت کے خلاف اور عدالتی آمریت کے خاتمے کے نعرے درج تھے۔

ایتمار بن گویر نے عدالت کے باہر اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی قانونی مشیر گالی بہراف میارا کا یہ دعویٰ درست ہے کہ میں پولیس کی پالیسی بدل رہا ہوں اور اپنی پالیسی نافذ کرنے کے لیے تعیناتیوں میں مداخلت کر رہا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچ لاکھ سے زائد ووٹرز نے ہمیں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے منتخب کیا ہے۔

انہوں نے سپریم کورٹ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل کو کسی آئینی بحران یا تقسیم کی طرف نہ دھکیلیں، جمہوریت ختم نہیں ہوگی بلکہ قانونی آمریت ختم ہوگی۔

گذشتہ روز منگل کو بنجمن نیتن یاھو نے بھی سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کرایا جس میں انہوں نے ایتمار بن گویر کو ہٹانے کے مطالبے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا۔ بنجمن نیتن یاھو کے مطابق سپریم کورٹ کو حکومت کے فیصلوں یا وزراء کی تعیناتی کے اختیارات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔

ادھر ویب سائٹ ٹائمز آف اسرائیل نے اس سماعت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ درخواست گزاروں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کو حکم دے کہ وہ ایتمار بن گویر کو برطرف کریں کیونکہ وہ پولیس کے آپریشنل معاملات میں غیر قانونی مداخلت، تعیناتیوں کو سیاسی رنگ دینے اور تحقیقات پر اثر انداز ہونے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق روایتی طور پر 3 ججوں کے بجائے 9 ججوں کے بنچ کی تشکیل اس کیس کی حساسیت اور اس کے ممکنہ دور رس نتائج کی عکاسی کرتی ہے۔

یاد رہے کہ جنوری کے مہینے میں حکومت کی قانونی مشیر نے بھی سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ بنجمن نیتن یاھو کو ایتمار بن گویر کی برطرفی کا حکم دیا جائے کیونکہ وہ اپنے عہدے کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے موقف اپنایا تھا کہ ایتمار بن گویر حساس نوعیت کی تحقیقات اور قانونی معاملات پر اثر انداز ہونے کے لیے غیر قانونی طور پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں۔

دسمبر کے گذشتہ مہینے میں بنجمن نیتن یاھو کی حکومت نے ان درخواستوں کو سیاسی بنیادوں پر ایک وزیر کو ہٹانے کی غیر قانونی کوشش قرار دیا تھا۔

اس سے قبل جنوری سنہ 2023ء میں سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں شاس پارٹی کے سربراہ آریہ درعی کو وزیر داخلہ اور وزیر صحت کے عہدوں سے اس بنیاد پر ہٹا دیا تھا کہ ان کی مجرمانہ سزا کے باوجود تعیناتی معقول نہیں تھی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan