Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

لبنان میں شدید جھڑپیں، ایک اسرائیلی فوجی ہلاک متعدد زخمی

بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنان کے محاذ پر جاری شدید لڑائی اور کشیدگی کے درمیان قابض اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں ہونے والی گھمسان کی جھڑپوں کے دوران اس کا ایک فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ جانی نقصان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب قابض صہیونی دشمن کی جانب سے لبنان کے مختلف علاقوں پر وحشیانہ فضائی حملوں اور عسکری جارحیت کا سلسلہ پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔

لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران لبنان کے مختلف شہروں اور بستیوں پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں کم از کم 34 افراد شہید اور 174 زخمی ہو چکے ہیں۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق صہیونی طیاروں نے مشرقی لبنان میں بقاع کے علاقوں مشغرہ اور سحمر کو بھی نشانہ بنایا، جس سے سفاکیت کی نئی داستانیں رقم ہوئیں۔

دوسری جانب اپنی سرزمین کے دفاع اور فلسطینیوں کے نصب العین کی حمایت میں حزب اللہ نے اپنی کارروائیوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ لبنانی مزاحمت کی جانب سے جنوبی لبنان میں قابض اسرائیلی فوج کے اجتماعات اور مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقوں میں اہم دفاعی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائیاں لبنانی بستیوں پر جاری اسرائیلی بمباری اور نہتے شہریوں کے قتل عام کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔

صہیونی ہوم فرنٹ کمانڈ کے مطابق لبنان سے ڈرون طیاروں کے داخلے کے بعد الجلیل الاعلیٰ کی متعدد بستیوں بشمول المطلہ، کفار غلعادی اور مسغاف عام میں خطرے کے سائرن گونج اٹھے۔ اس کے علاوہ راس الناقورہ اور شمالی علاقوں میں بھی فضائی دراندازی کے پیش نظر بار بار انتباہی سگنل بجتے رہے، جس نے قابض فوج اور آباد کاروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

قابض اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ جمعرات سے اب تک جنوبی لبنان کی لڑائی میں اس کے 154 افسران اور سپاہی زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے 34 کی حالت تشویشناک اور 78 کی حالت درمیانی بتائی جاتی ہے۔ یکم مارچ سنہ 2026ء سے شروع ہونے والے زمینی آپریشنز کے بعد سے اب تک قابض دشمن کے زخمی ہونے والے فوجیوں کی مجموعی تعداد 565 تک پہنچ گئی ہے۔

سیاسی محاذ پر لبنان کے وزیر ثقافت غسان سلامہ نے واشنگٹن میں لبنان اور قابض اسرائیل کے سفیروں کے درمیان ہونے والی ملاقات کو محض ایک تمہیدی نشست قرار دیا جس کا مقصد فوجی حملوں کو روکنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیروت کو کشیدگی میں کمی کے حوالے سے بعض وعدے تو ملے ہیں لیکن وہ ٹھوس ضمانتوں سے محروم ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی سنجیدہ امن مذاکرات کے لیے پہلی شرط بمباری کی فوری بندش اور سیز فائر ہے، جبکہ ریاست کی مکمل رٹ کی بحالی ایک پیچیدہ عمل ہے جو فوری طور پر حل طلب نہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan