Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

ٹرمپ کی مسیح سے تشبیہ پر شدید ردعمل، بشپ الشوملی کی مذمت

بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) القدس میں لاطینی کلیسا کے پیٹریاڈیک کوآرڈینیٹر بشپ ولیم الشوملی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خود کو حضرت عیسیٰ مسیح سے تشبیہ دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے توہین آمیز اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

بشپ الشوملی کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو حضرت مسیح کے روپ میں دکھانے والی ایک تصویر نشر کی، جس کا مقصد ویٹیکن کے پوپ لیو چودہویں پر تنقید کرنا تھا۔ یاد رہے کہ پوپ نے ایران کے خلاف امریکی اور قابض اسرائیلی جارحیت کی شدید مخالفت اور مذمت کی تھی۔

بشپ الشوملی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے خلاف جارحانہ رویہ مسیحی مذہب کے اصولوں کے سراسر منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت مسیح تواضع، خدمت خلق اور ایثار و قربانی کا نمونہ ہیں، نہ کہ اقتدار کی ہوس، تسلط پسندی اور دوسروں کو دیوار سے لگانے کا نام۔

لاطینی کلیسا کے بشپ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس عمل کو ایک کھلی شیخی اور خود کو ایک مافوق الفطرت اور عظیم شخصیت کے طور پر پیش کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا، جو ان کے بقول کسی صورت جائز نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ صرف مسیح سے تشبیہ دینے کا نہیں بلکہ اس توہین آمیز طریقے کا ہے جو اختیار کیا گیا، اور کوئی بھی عقل مند انسان اس اسلوب کو قبول نہیں کر سکتا۔

بشپ الشوملی نے واضح کیا کہ یہ طرز عمل مسیحی اقدار کے جوہر، خاص طور پر اپنے پڑوسی سے محبت کے اصول کے متصادم ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ مسیحیت سے وابستگی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ درحقیقت ایمان کے بنیادی اصولوں کی تذلیل کر رہے ہیں۔

اسی تناظر میں انہوں نے توجہ دلائی کہ ویٹیکن ایران کے خلاف جارحیت کا مخالف ہے اور پوپ لیو چودہویں نے اس حوالے سے متعلقہ پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ میں کیتھولک بشپس کی اکثریت بھی اس جنگ کی حامی نہیں ہے اور اسے امریکہ کی اپنی جنگ کے بجائے ایک مسلط کردہ جنگ سمجھتی ہے۔

یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو قابض اسرائیل کے شانہ بشانہ جارحیت میں ملوث ہونے پر اندرونی اور بیرونی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے، اور یہ الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ یہ سب کچھ قابض اسرائیل کی حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو کے دباؤ پر کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ بنجمن نیتن یاھو سنہ 2024ء سے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے الزامات کے تحت عالمی فوجداری عدالت کو مطلوب ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan