Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

حماس کے خلاف عالمی اتحاد کی کوششیں پیچیدہ ہیں: نیتن یاہو

تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے کسی بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل ایک مشکل امر ہے۔

اسرائیلی چینل آئی 24 نیوز نے گذشتہ اتوار کے روز بنجمن نیتن یاھو کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے سکیورٹی کابینہ (کابینٹ) کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد متحرک کرنے میں ناکام رہے تھے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے اسی طرح کا اتحاد بنانا کتنا دشوار گزار کام ہے۔

بنجمن نیتن یاھو نے مزید کہا کہ ٹرمپ اس حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں کہ حماس اپنا اسلحہ نہیں ڈالے گی، انہوں نے اشارہ دیا کہ فلسطینی تحریک کو غیر مسلح کرنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد کے قیام کا نظریہ حقیقت پسندی سے بہت دور ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ قابض اسرائیل کو خود یہ کام کرنا پڑے گا، ان کا یہ بیان ممکنہ فوجی آپشنز کی طرف ایک واضح اشارہ ہے۔

واضح رہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنا صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کی شقوں میں سے ایک ہے جس کا اعلان گذشتہ 29 ستمبر سنہ 2025ء کو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے کیا گیا تھا، اس منصوبے کی دیگر شقوں میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، جنگ بندی، غزہ کی پٹی سے قابض اسرائیل کا انخلاء، ٹیکنو کریٹ حکومت کی تشکیل، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور تعمیر نو کے عمل کا آغاز شامل ہے۔

بنجمن نیتن یاھو کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے مقررہ مہلت ختم ہونے کے قریب ہے، جبکہ اسرائیلی اندازوں کے مطابق اس فائل پر حتمی فیصلہ اب قریب آ چکا ہے۔

گذشتہ 16 فروری سنہ 2026ء کو اسرائیلی حکومت نے اپنے سیکرٹری یوسی فوکس کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ وہ حماس کو اسلحہ چھوڑنے کے لیے 60 دن کی مہلت دے گی اور مطالبہ تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں دوبارہ جنگ شروع کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اسرائیلی عہدیدار نے اس وقت مہلت کے آغاز کی کوئی حتمی تاریخ متعین نہیں کی تھی۔

انہوں نے وضاحت کی تھی کہ اس مہلت میں حماس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام ہتھیاروں بشمول انفرادی ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس پر عمل نہ ہوا تو فوج کو یہ مشن مکمل کرنا ہو گا، جو کہ درحقیقت نسل کشی کی جنگ کو دوبارہ شروع کرنے کی طرف ایک اشارہ تھا۔

قابض اسرائیل نے امریکہ کی بھرپور حمایت کے ساتھ 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ مسلط کر رکھی ہے جو دو سال تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، اس کے علاوہ غزہ کا تقریبا 90 فیصد سویلین انفراسٹرکچر تباہ کر دیا گیا۔

اگرچہ اکتوبر سنہ 2025ء میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پایا تھا جو نافذ العمل ہوا، تاہم قابض اسرائیل نے معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کرتے ہوئے پٹی کے مختلف علاقوں میں بمباری اور مکانات کو منہدم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan