مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں وزارت برائے اسیران و آزاد کردہ افراد نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی، انسانی حقوق کے ہائی کمشنر اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے نام ایک ہنگامی اپیل جاری کی ہے تاکہ قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں قید فلسطینی اسیران کی زندگیوں کو بچایا جا سکے۔
یہ اپیل سترہ اپریل سنہ 2026ء کو آنے والے فلسطینی یوم اسیر کی مناسبت سے جاری کی گئی ہے۔
وزارت نے ان بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہزاروں فلسطینی اسیران کے خلاف ہونے والی ان سنگین خلاف ورزیوں پر اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں جو بین الاقوامی انسانی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کے بنیادی قواعد کے سراسر منافی ہیں۔
وزارت نے اپنی اپیل میں اس بات پر زور دیا ہے کہ موصول ہونے والی رپورٹس اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جیلوں کے اندر حالات انسانی المیے کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ اسیران کو بھوکا رکھنے کی منظم پالیسی کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں ان کی صحت شدید بگڑ چکی ہے، جبکہ جان بوجھ کر برتی جانے والی طبی غفلت نے بیماروں اور زخمیوں کو بنیادی علاج سے بھی محروم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ شدید ازدحام، توہین آمیز حالاتِ حجز، بیرونی دنیا سے مکمل کٹاؤ اور وکلاء کی ملاقاتوں پر پابندی جیسے مظالم بھی ڈھائے جا رہے ہیں۔
وزارت نے فوری عالمی تحرک کا مطالبہ کیا ہے جس میں جیلوں کے معائنے اور اسیران کی حالت زار کا جائزہ لینے کے لیے آزاد بین الاقوامی وفود بھیجنا، فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے دباؤ ڈالنا، اہل خانہ سے ملاقاتوں اور انسانی رابطے کی بحالی کو یقینی بنانا اور بین الاقوامی قانونی فورمز پر ان خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا احتساب کرنا شامل ہے۔
وزارت نے خبردار کیا ہے کہ ان ممارست پر عالمی خاموشی اسیران پر ڈھائی جانے والی سفاکیت کو جاری رکھنے کے لیے گرین سگنل فراہم کرتی ہے۔ وزارت نے امید ظاہر کی ہے کہ اسیران کی زندگیوں کو بچانے کے لیے وقت گزرنے سے پہلے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔
وزارت کے پاس موجود دستاویزی اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں 9500 سے زائد فلسطینی اسیران قید ہیں جن میں 350 کمسن بچے اور 133 خواتین شامل ہیں، جبکہ ہزاروں اسیران کو سزائے موت کے قانون کی منظوری جیسے خطرات کا بھی سامنا ہے۔
