تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکومت کی وزارت خزانہ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث ریاستی بجٹ کو اب تک تقریباً 35 ارب شیکل کا بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے جو کہ 11.52 ارب امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔
وزارت نے وضاحت کی کہ ان اخراجات میں سے تقریباً 22 ارب شیکل دفاعی مقاصد کے لیے مختص کیے گئے تھے جبکہ بقیہ رقم جنگ سے وابستہ شہری ضروریات کو پورا کرنے پر خرچ کی گئی۔
بیان میں بتایا گیا کہ یہ رقم پہلے ہی سنہ 2026ء کے بجٹ میں شامل کی جا چکی ہے جسے قابض حکومت نے مجموعی طور پر تقریباً 662 ارب شیکل کی مالیت سے منظور کیا ہے۔
وزارت نے مزید بتایا کہ گزشتہ ماہ یعنی وسط مارچ سنہ 2026ء میں قابض حکومت نے محاذ آرائی میں شدت آنے کے بعد ہنگامی بنیادوں پر اسلحہ خریدنے کے لیے 2.6 ارب شیکل (827 ملین ڈالر) کی اضافی رقم کی منظوری دی تھی۔
تخمینوں کے مطابق ان اخراجات کی وجہ سے مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقررہ ہدف 3.9 فیصد سے بڑھ کر 4.9 فیصد اور 5.6 فیصد کے درمیان تک پہنچ سکتا ہے۔
وزارت خزانہ کے اندازوں کے مطابق ایران کے ساتھ فضائی تصادم کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصانات ہفتہ وار بنیادوں پر تقریباً 9 ارب شیکل (2.93 ارب ڈالر) تک پہنچ رہے ہیں۔
اسی تناظر میں چینل 12 کے حوالے سے سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران اور لبنان کے دوہرے محاذوں پر 40 دن کی لڑائی کی لاگت 17.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے جس میں فوجی اور شہری دونوں پہلو شامل ہیں۔
تخمینوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متاثرہ کمپنیوں اور مزدوروں کے لیے معاوضے کے منصوبے پر 6.5 سے 7 ارب شیکل کے درمیان لاگت آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب سنہ 2026ء کے لیے سکیورٹی بجٹ بڑھ کر تقریباً 112 ارب شیکل ہو گیا ہے جبکہ وسیع پیمانے پر تصادم کے آغاز سے قبل یہ بجٹ 65 ارب شیکل تھا۔
معاشی طور پر بینک آف اسرائیل نے سنہ 2026ء کے دوران معاشی ترقی کی شرح کے اندازوں کو کم کر کے 3.3 فیصد سے 3.8 فیصد کے درمیان کر دیا ہے اور ان تخمینوں کو فوجی کارروائیوں کے دورانیے سے مشروط کیا گیا ہے۔
توقع ہے کہ قابض حکومت فوجی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے صحت اور تعلیم جیسی خدماتی وزارتوں کے بجٹ میں 2 سے 3 فیصد تک کٹوتی کرے گی۔
بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے پیش نظر متعدد بڑے قومی منصوبوں کو مؤخر کیے جانے کا قوی امکان ہے جن میں میٹرو سسٹم کا منصوبہ اور نئی حکومتی عمارتوں کی تعمیر کے منصوبے شامل ہیں کیونکہ جنگ سے وابستہ وعدوں اور واجبات کے باعث نقدی کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔
