Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

فلسطینی شہدا کی بے حرمتی پر عالمی ردعمل، جنوبی کوریا کے صدر کا سخت بیان

سیول – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک حالیہ تبصرے نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے ایک ایسی ویڈیو پر اپنا ردعمل ظاہر کیا جس میں قابض اسرائیلی فوجی مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک عمارت کی چھت سے فلسطینی شہید کا جسد خاکی نیچے پھینک رہے ہیں۔ یہ لرزہ خیز منظر فلسطینی شہدا کے اجساد مقدسہ کے ساتھ قابض اسرائیل کی مسلسل جاری سفاکیت اور توہین آمیز سلوک کی ایک بھیانک یاد دہانی ہے۔

صدر میونگ نے اپنی ٹویٹ میں کوریائی زبان میں تحریر کیا کہ اس بات کی تصدیق ہونی چاہیے کہ آیا یہ درست ہے اور اگر ایسا ہے تو اس کے خلاف کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کو عالمی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے تناظر میں رکھتے ہوئے مزید لکھا کہ ہم جن چیزوں کو جرائم تصور کرتے ہیں جیسے کہ ماضی میں خواتین کو جنسی غلامی پر مجبور کرنا، یہودیوں کی نسل کشی یا جنگی قتل عام، یہ واقعہ بھی ان سے مختلف نہیں ہے۔

پرانا واقعہ مگر مسلسل سفاکیت

اگرچہ یہ ویڈیو حالیہ دنوں میں بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی ہے تاہم اس واقعے کا پس منظر ستمبر سنہ 2024ء کا ہے جب قابض اسرائیلی افواج نے شمالی مغربی کنارے کے قصبے قباطیہ میں ایک فوجی آپریشن کیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران قابض فوج نے ایک گھر کا محاصرہ کیا جس میں متعدد فلسطینی نوجوان محصور تھے اور بعد ازاں تین فلسطینیوں کو شہید کرنے کا اعلان کیا گیا۔

اس وقت جس چیز نے دنیا کو لرزا کر رکھ دیا تھا وہ صرف شہادتیں نہیں تھیں بلکہ وہ مناظر تھے جن میں قابض اسرائیلی فوجی شہدا کی لاشوں کو یکے بعد دیگرے چھت سے نیچے پھینک رہے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس طرز عمل کو لاشوں کی بے حرمتی اور انسانی وقار کی سنگین ترین پامالی قرار دیا تھا۔

اس حوالے سے یورو میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر کے سربراہ رامی عبدہ نے وضاحت کی کہ یہ ویڈیو حال ہی کی نہیں بلکہ 19 ستمبر سنہ 2024ء کی ہے جب قابض اسرائیلی افواج نے قباطیہ میں محصور گھر سے تین فلسطینیوں کے جسد خاکی نیچے پھینکے تھے۔ اس وقت مذکورہ ادارے نے مطالبہ کیا تھا کہ قابض اسرائیل کی طرف سے فلسطینی علاقوں میں ڈھائے جانے والے مظالم اور ان ہولناک جرائم کی بین الاقوامی سطح پر فوری اور مؤثر تحقیقات کرائی جائیں۔

روح فرسا مناظر

یورو میڈیٹیرینین مانیٹر نے ان دستاویزی ویڈیوز پر روشنی ڈالی جن میں تین قابض اسرائیلی فوجی عمارت کی چھت پر چڑھ کر شہدا کے اجسام کو دھکا دیتے اور نیچے گراتے نظر آتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں تو ایک سفاک فوجی اپنے بوٹوں سے شہید کے جسد مبارک کو ٹھوکر مارتا ہے یہاں تک کہ وہ چھت کے کونے سے نیچے گر جاتا ہے۔ یہ کارروائی جنین کے قریب قباطیہ میں کی گئی جہاں تین فلسطینیوں کو انیرجا راکٹوں سے نشانہ بنانے کے بعد ان کی لاشوں کے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک کیا گیا۔

طوباس کا بچہ اور نسل کشی کا تسلسل

شہدا کی بے حرمتی کا یہ واقعہ ایک وسیع تر اسرائیلی مہم کا حصہ ہے جو پورے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں جاری ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین برائے انسانی حقوق نے طوباس میں پیش آنے والے ایک اور واقعے کی شدید مذمت کی ہے جس میں فارعہ کیمپ کے 17 سالہ بچے ماجد فداء ابو زینہ کو شہید کرنے کے بعد اس کے جسد خاکی کی بے حرمتی کی گئی۔

انسانی حقوق کے مراکز کا کہنا ہے کہ یہ ممارست انفرادی واقعات نہیں ہیں بلکہ یہ فلسطینیوں کی نسل کشی اور انہیں ذلیل و رسوا کرنے کا ایک منظم نمونہ ہے جو عالمی احتساب کے فقدان کی وجہ سے پروان چڑھ رہا ہے۔ جنوبی کوریا جیسی اہم ریاست کے سربراہ کا اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ قابض اسرائیل کے جرائم اب عالمی ضمیر کے لیے ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں۔

صدر لی جائے میونگ کے بیان پر قابض اسرائیل تلملا اٹھا ہے اور عبرانی میڈیا نے ان پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ صہیونی میڈیا اس سنگین جرم کی پردہ پوشی کے لیے اسے پرانا واقعہ قرار دے کر جواز تراشنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں ایسے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ اگرچہ یہ واقعہ ڈیڑھ دو سال پرانا ہے مگر اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ قابض اسرائیل کو اس کی سفاکیت پر کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور اسے جنگی قوانین کا پابند بنایا جائے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan