بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے کی صبح سے جنوبی لبنان کے متعدد قصبوں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں 11 افراد جام شہادت نوش کر چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب حزب اللہ نے اس جاری جارحیت اور سفاکیت کے جواب میں اپنے حملوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔
قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے الطیبہ، عدشیت، جبشیت، کفر صیر اور تول کے قصبوں پر پے در پے غارت گری کی، جبکہ بالائی اور مغربی جلیل کے علاقوں میں خطرے کے سائرن بجنے کا سلسلہ جاری رہا اور متعدد ڈرون طیاروں و راکٹوں کو فضا میں ہی روکنے کے دعوے کیے گئے۔
لبنانی ویب سائٹ النشرہ کے مطابق قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے فجر کے اوقات سے حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا، جس میں میفدون قصبے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنا کر اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اس وحشیانہ حملے میں 3 افراد شہید ہوئے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیلی طیاروں نے تول-النبطیہ قصبے پر بھی کئی حملے کیے اور شہیدہ صبرا سٹریٹ اور حی المقام میں متعدد رہائشی عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔
جبشیت قصبے کو بھی فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا جہاں مقامی بجلی کے نجی جنریٹروں کے مرکز کو تباہ کر دیا گیا جس کے نتیجے میں وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
علاقہ اقلیم التفاح کے قصبے جباع پر بھی ایک فضائی حملہ کیا گیا، تاہم وہاں گرنے والا میزائل پھٹ نہ سکا۔
میدانی محاذ پر حزب اللہ نے اپنی کارروائیوں میں شدت لاتے ہوئے المطلہ، کریات شمونہ اور مسغاف عام میں قابض اسرائیلی فوج کے اجتماعات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے، اس کے علاوہ صفد میں فوجی بیرکوں اور تنصیبات پر بمباری کی گئی اور خودکش ڈرونز و گائیڈڈ میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جن کے بارے میں مقاومت نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اپنے اہداف کو درست نشانہ بنایا۔
انسانی صورتحال کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے بحران کی سنگینی سے خبردار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لبنان کے اندر تقریباً 1.2 ملین (بارہ لاکھ) افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ امدادی مراکز میں گنجائش ختم ہو چکی ہے اور بڑی تعداد میں سکولوں کو پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسانی ضروریات دستیاب وسائل اور گنجائش سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔
سیاسی محاذ پر لبنانی ایوان صدر نے واشنگٹن میں لبنان اور قابض اسرائیل کے سفیروں کے درمیان اپنی نوعیت کے پہلے رابطے کا اعلان کیا ہے جس میں بیروت میں امریکی سفیر بھی شریک تھے۔ اس دوران اتفاق کیا گیا کہ آئندہ منگل کو امریکی وزارت خارجہ کے ہیڈ کوارٹر میں جنگ بندی یا سیز فائر کے اعلان پر غور کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے عمل کو شروع کرنے کے ابتدائی سمجھوتے کے بعد سامنے آئی ہے۔
