تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جب ہم مزاحمت کی بات کرتے ہیں تو اس عنوان سے یقینی طور پر ایک طویل تاریخ ہمارے سامنے آتی ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں ہم اس مزاحمت کو ایک ایسے تناظر میں دیکھتے ہیںکہ جہاں غرب ایشیائی خطے میں سنہ دوسری جنگ عظیم کے بعد رونما ہونے والی تبدیلیاں اور ساتھ ساتھ ان تبدیلیوں میں فلسطین پر غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کا قیام ہے۔ اس کے ساتھ ہی خطے میں جنگ اور بد امنی اور اس کے پس پردہ مقاصدمیں گریٹر اسرائیل کا قیام اور امریکی منصوبہ کے تحت نیا مشرق وسطیٰ تیار کرنا ہے۔ لہذا مزاحمت کے موضوع کے اس تناظر میں دیکھا جاتا ہے اور اس مقالہ میںبھی اسی عنوان سے گفتگو کی جائے گی۔
سنہ 1948 کےبعد غاصب صیہونی حکومت اسرائیل خطے میں ایک ناقابل تسخیر قوت کے طور پر ابھری اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عرب ممالک کو مختلف ادوار میں شکست، عرب علاقوں پر اسرائیلی توسیع پسندانہ قبضے اور اسی طرح خطے میں دہشت گرد گروہوں کی مدد سے انارکی پھیلانے جیسے کام غاصب صیہونی ریاست اسرائیل انجام دیتی آئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر دنیا بھر کی ٹیکنالوجی اور عسکری طاقت کے باوجود ابھی تک اسرائیل اور ا سکے مغربی سرپرست ناکام کیوں ہے۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے کیونکہ اس کا جواب ہے مزاحمت ۔
جی ہاں مزاحمت کہ جس نے سنہ1979میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کی صورت میں امریکہ اور اسرائیل سمیت سوویت یونین اور دیگر قوتوں کو بیک وقت شکست دی تھی وہ پھیل کر فلسطین و لبنان اور شام و عراق سمیت یمن اور اب دنیا کے ہر کونے میں کسی نہ کسی شکل میں پہنچ چکی ہے۔ اگر ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب نہ ہوتا تو شاید دنیا بہت پہلے ہی گریٹر اسرائیل کے تسلط میں آ چکی ہوتی اور غرب ایشیاء کا علاقہ اس وقت گریٹر اسرائیل ہوتا۔
بہر حال تاریخ کے اوراق کو پلٹتے ہوئے اگر ہم سنہ1982 سے لے کر آج تک یعنی 2026کی بات کریں تو ہمیں نظرا ٓتا ہے کہ ظلم اور استکبار کے مقابلہ میں مزاحمت ہمیشہ سربلند رہی ہے۔ یہی مزاحمت ہی ہے جس نے گریٹر اسرائیل کے راستے میں بند باندھ رکھا ہے۔ یہ مزاحمت ہی ہے جس نے دنیا کی بڑی طاقتوں کے ظلم اور استبداد کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔حالیہ زمانے میں طوفان الاقصیٰ کے آغاز نے دنیا کے سیاسی و معاشی نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ طوفان اقصیٰ آج کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔ آج امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ آور ہیں، اس سے قبل انہوںنے غزہ میں منظم انداز میں نسل کشی کی ہے۔ ہزاروں بے گناہ انسانوں کو قتل کیا گیا ہے۔ لاکھوں کو بے گھر کیا ہے۔ فلسطینی مزاحمت کے رہنمائوں اور ساتھیوں کو چن چن کر قتل کیا گیا ہے۔لیکن پھر بھی جدوجہد فلسطین جاری ہے۔اس آزادی اور عزت کی لڑائی میں کسی طرح کی کوئی کمی دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ عوام کی استقامت اور صبر کی بات ہو یا مجاہدین کی جدوجہد کی بات ہو تمام میدانوں میں بے مثال ہیں۔
یہی صورتحال لبنان کی ہے۔ لبنان پر مسلسل تین سال سے جنگ مسلط رکھی گئی ہے۔ حزب اللہ کے قائدین کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔ معصوم بچوں اور خواتین کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہاہے۔ اس سے قبل لبنان کی مزاحمت حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت بشمول سید حسن نصر اللہ اور ان کے قریبی ساتھیوں کو ٹارگٹ کیا گیا۔یہ سب اس لئے کیا گیا تھا کہ فلسطین اور لبنان میں حماس اور حزب اللہ دونوں کو ختم کرنے کی امریکی و اسرائیلی منصوبہ بندی تھی ۔بہر حال دشمن نے سب کچھ کر کے دیکھ لیا ہے لیکن مزاحمت کا سر جھکانے میں ناکامی کا سامنا ہے ۔
غاصب صیہونی دشمن اسرائیل نے اپنی شکست اور ذلت کا بدلہ لینے کے لئے حال ہی میں لبنان پر وحشیانہ بمباری کی ہے۔غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے پچاس سے زائد جنگی جہازوں نے لبنان کے دارلحکومت بیروت میں شہری عمارتوں پر ایک منٹ کے اندر ایک سو ساٹھ خطر ناک اور مہلک بم گرائے جس کے نتیجہ میں صرف دس منٹ کے اندر اندر ایک سو سے زائد رہائشی عمارتیں حملہ کی زد پر آ گئیں اور سیکڑوں لبنانی شہری شہید ہوئے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہو گئے ۔ اس تمام صورتحال میں عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ کسی بھی مغربی اور عربی ملک نے اسرائیل کی اس جارحیت کی مذمت تک نہیںکی۔
دوسری طرف لبنان کی بہادر اور حوصلہ مند قوم ہے کہ جس نے فلسطین کا زکے لئے اپنی ہر چیز قربان کرنے کا عزم کر رکھا ہے اور اس عزم میں کسی قسم کی کمی نہیں آ رہی ہے۔
جہاں تک مزاحمت کا تعلق ہے تو مزاحمت باقاعدہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ہر ظلم کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے۔ برطانوی صحافی جارج گیلوے نے اپنے ایک ویڈیو رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ نے زمینی کاروائی میں اسرائیلی فوج کو پسپائی کا شکار کر دیا ہے۔اسرائیلی فوج حزب اللہ کے جوانوں کے سامنے شکست کھا کر فرار کر گئی ہے لیکن فضائی حملوں کے ذریعہ لبنان کے عوام کو قتل کیا جا رہاجو اسرائیل کی بد ترین ذلت اور شکست کی واضح دلیل ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ فلسطین ، لبنان اور ایران سمیت یمن و عراق امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کر رہےہیں۔ اس راستے میں بھرپور قربانیاں بھی پیش کر رہے ہیں اور صبر و استقامت کا مظاہرہ بھی کر رہےہیں۔عوام کی شجاعت، اتحاد، بے مثال صبر و استقامت اس بات کی دلیل ہے کہ مزاحمت سر بلند ہے اور دشمن تمام تر دنیاوی قدرت کے باوجو دبھی مزاحمت کو سرنگوں کرنے میں ناکام ہے اور مستقبل میں بھی دشمن ناکام ہی رہے گا۔