Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

لبنان

جنوبی لبنان: مزاحمتی گروپس کی 22 عسکری کارروائیاں، شدید جھڑپیں جاری

بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوب لبنان کے محاذ پر میدانِ جنگ میں غیر معمولی تیزی اور شدید تصادم دیکھنے میں آیا جہاں اسلامی مزاحمت نے دشمن کے خلاف مجموعی طور پر 22 عسکری کارروائیوں کو کامیابی سے انجام دیا۔ ان کارروائیوں میں راکٹ حملوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنانے سے لے کر غاصب صہیونی دشمن کے ساتھ دوبہ دو براہ راست جھڑپیں بھی شامل رہیں۔

مزاحمت کی جانب سے جاری کردہ پے در پے بیانات میں واضح کیا گیا کہ یہ تمام کارروائیاں لبنان اور اس کے غیور عوام کے دفاع میں اور قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر یا جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے منہ توڑ جواب میں کی گئی ہیں۔ بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مقاومت دشمن کی جانب سے ہونے والی اشتعال انگیزیوں اور خلاف ورزیوں کے مقابلے میں خاموش نہیں بیٹھے گی۔

صہیونی بستیوں پر شدید راکٹ باری

کارروائیوں کا بڑا حصہ مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقوں میں قائم ناجائز صہیونی بستیوں کو نشانہ بنانے پر مرکوز رہا۔ غاصب دشمن کی کریات شمونہ نامی بستی پر دن بھر میں سات مرتبہ میزائل داغے گئے جبکہ المنارہ بستی کو دو بار نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ افیفیم، شلومی، شومیرہ اور المطلہ نامی بستیوں پر بھی قہر بن کر راکٹ برسے، جبکہ کفاریوفال کے شمال میں واقع ہضبۃ العجل کے مقام پر دشمن کے ٹھکانے کو تباہ کیا گیا۔

اسی طرح میس الجبل نامی قصبے کے سامنے واقع العاصی نامی فوجی پوزیشن کو راکٹوں کے بھاری ذخیرے سے نشانہ بنایا گیا جو آج کی تازہ ترین اور موثر ترین کارروائیوں میں سے ایک تھی۔

ڈرون طیاروں کا استعمال اور فوجی گاڑیوں پر حملے

غیر روایتی اور جدید عسکری کارروائیوں کے سلسلے میں مزاحمت نے اعلان کیا کہ دوپہر 1:40 بجے مسکاف عام نامی بستی میں جمع قابض اسرائیل کے فوجیوں کے ایک بڑے جتھے پر خودکش ڈرون طیاروں کے غول سے حملہ کیا گیا۔

الطیبہ نامی قصبے میں مقاومت نے دوپہر 12:30 بجے ایک خودکش ڈرون کے ذریعے قابض اسرائیل کے ڈی 9 (D9) قسم کے فوجی بلڈوزر کو نشانہ بنا کر اسے ناکارہ بنا دیا، جبکہ صبح 8:45 بجے اسی علاقے میں ایک مکان کے اندر پناہ لینے والی صہیونی فوجی ٹکڑی پر براہ راست حملہ کر کے انہیں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

بنت جبیل میں آمنے سامنے کی خونریز جھڑپیں

میدانی صورتحال کے حوالے سے بنت جبیل شہر میں موت کے سائے منڈلا رہے ہیں جہاں مزاحمت کے جری جوانوں اور غاصب دشمن کے درمیان صفر کے فاصلے سے شدید جھڑپیں ہوئیں۔ مقاومت نے اعلان کیا کہ شہر کے بازار کی جانب پیش قدمی کی کوشش کرنے والی صہیونی فوجی گاڑیوں کے قافلے کو ہلکے اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں اور راکٹوں کے ذریعے روک لیا گیا اور ان کے درمیان گھمسان کی جنگ چھڑ گئی۔

اس کے ساتھ ہی مزاحمت نے موسیٰ عباس کمپلیکس، مثلث التحرير اور ٹیکنیکل سکول کے گرد و نواح میں جمع قابض اسرائیلی فوجیوں اور ان کی گاڑیوں پر راکٹوں اور توپ خانے سے شدید گولہ باری کی۔ بیانات میں تصدیق کی گئی ہے کہ رپورٹ جاری ہونے کے وقت تک یہ جھڑپیں پوری شدت کے ساتھ جاری تھیں۔

مزاحمت کا دو ٹوک پیغام

مزاحمت کے بیانات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ تمام کارروائیاں سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔ مقاومت نے واضح کیا کہ جب تک لبنان اور اس کے عوام پر قابض اسرائیل اور امریکہ کی یہ مشترکہ سفاکیت اور جارحیت بند نہیں ہوتی، تب تک دشمن کو ان کی ہر حرکت کا دندان شکن جواب ملتا رہے گا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan