قاہرہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) برطانوی اخبار گارڈین نے ایک رپورٹ میں غزہ کی پٹی کے ان فلسطینیوں کی تکالیف کو اجاگر کیا ہے جنہوں نے صہیونی بمباری کے دوران اپنے اعضاء کھو دیے اور اب علاج کی غرض سے مصر منتقلی کے بعد انتہائی پیچیدہ انسانی اور قانونی حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں 36 سالہ فلسطینی خاتون علا جمال کی کہانی بیان کی گئی ہے جو نومبر سنہ 2023ء میں غزہ کے النصر ہسپتال میں اپنے بچے کو دودھ پلاتے ہوئے اسرائیلی حملے میں اپنا بازو کھو بیٹھی تھیں۔
عالمی ادارہ صحت اور فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک غزہ میں 6 ہزار سے زائد فلسطینیوں کے اعضاء بمباری کی وجہ سے کاٹنے پڑے ہیں جن میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مصر پہنچنے کے بعد بھی ان زخمیوں کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں کیونکہ ان کے پاس باقاعدہ رہائشی اجازت نامے یا پناہ گزین کا درجہ موجود نہیں ہے اور اقوام متحدہ نے بھی ان کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
قانونی حیثیت واضح نہ ہونے کی وجہ سے ان زخمیوں کو مصنوعی اعضاء کی فراہمی اور دیگر طبی سہولیات کے حصول میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ یہ لوگ اکثر غیر سرکاری تنظیموں کی امداد پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ زخمیوں کو رہائش اور روزگار کے مسائل کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے ان پر نفسیاتی اور معاشی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ گارڈین نے کئی ایسے زخمیوں کے بیانات قلمبند کیے ہیں جو اب اپنے تباہ شدہ گھروں کو واپس جانے کے خواہشمند ہیں کیونکہ وہ مصر میں بے یار و مددگار زندگی گزارنے سے تنگ آ چکے ہیں۔
