Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

صہیونی قید سے فلسطینی کارکن کی رہائی، مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نے فلسطینی مرابطہ منتهى امارہ کو اس شرط پر رہا کر دیا ہے کہ وہ ایک ہفتے تک مسجد اقصیٰ میں داخل نہیں ہوں گی۔ انہیں القدس شہر میں واقع مسجد اقصیٰ کے صحنوں سے عبادت کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ منتهى امارہ کا تعلق مقبوضہ فلسطین کے گاؤں زلفہ سے ہے۔

رہائی کے بعد انہوں نے بتایا کہ وہ 40 دنوں کی طویل بندش کے بعد مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے گئی تھیں۔ تمام پولیس رکاوٹیں عبور کر کے جب وہ باب حطہ پہنچیں تو ایک پولیس اہلکار نے انہیں روک کر ان کی گرفتاری کا حکم سنا دیا۔ انہیں القدس کے القشلہ نامی پولیس مرکز منتقل کیا گیا جہاں کئی گھنٹوں تک انہیں تذلیل کا نشانہ بنایا گیا۔ رہائی سے قبل انہیں مطلع کیا گیا کہ فی الحال ان پر ایک ہفتے کے لیے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی ہے اور اگلے ہفتے انہیں دوبارہ طلب کیا گیا ہے جہاں اس پابندی کو چھ ماہ تک بڑھائے جانے کا قوی امکان ہے۔

منتهى امارہ نے کہا کہ جو کچھ مسجد اقصیٰ میں ہو رہا ہے وہ اللہ کے گھر پر مکمل قبضہ ہے۔ یہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہاں قابض دشمن کا مکمل کنٹرول ہے۔ انہوں نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسجد ہمارا حق ہے اور اگر مجھے اس سے دور کیا گیا تو میں اس کے قریب ترین مقام پر کھڑے ہو کر نماز ادا کروں گی کیونکہ ہمیں اپنی مسجد سے کوئی جدا نہیں کر سکتا۔ مسجد اقصیٰ میں ایک ماہ کی بندش کے بعد نمازیوں کی واپسی شروع ہوئی ہے تاہم قابض دشمن نے سخت سکیورٹی انتظامات کے ساتھ ساتھ آباد کاروں کے لیے مسجد پر دھاوے بولنے کے اوقات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan