تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی جمہوریہ ایران نے آبنائے ہرمز سے تیل بردار بحری جہازوں کے گزرنے کی اجازت دینے کے محض چند گھنٹوں بعد ان کی آمد و رفت دوبارہ معطل کر دی ہے، یہ فیصلہ قابض اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کے پس منظر میں کیا گیا ہے جبکہ ایرانی حکام نے لبنانی سر زمین پر صہیونی حملوں کے جواب میں تل ابیب کو سزا دینے کا اشارہ بھی دیا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں فوجی کشیدگی اور صہیونی جارحیت کے باعث خطے میں جاری تناؤ کے پیش نظر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تاحال سخت ترین اقدامات کے تابع ہے، جبکہ فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہے اور تیل بردار بحری جہاز اپنی منزلوں کی جانب جانے کے بجائے واپس مڑ رہے ہیں۔
بدھ کے روز اس سے قبل ایرانی مجلس شوریٰ کے سپیکر محمد باقر قاليباف نے امریکہ اور قابض اسرائیل پر مذاکرات کے آغاز سے قبل ہی جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا، انہوں نے نشاندہی کی کہ واشنگٹن نے ایران کی جانب سے پیش کردہ دس نکاتی اقدام کے تین بنیادی نکات کی خلاف ورزی کی ہے جو ان مذاکرات کے لیے ایک عملی ڈھانچہ اور فریم ورک کی حیثیت رکھتے تھے۔
قاليباف نے واضح کیا کہ یہ خلاف ورزیاں کسی بھی قسم کے باقاعدہ اور رسمی مذاکرات شروع ہونے سے بھی پہلے وقوع پذیر ہوئی ہیں۔
اسی تناظر میں تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک باخبر ایرانی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ لبنان میں اسلامی مزاحمت سمیت تمام محاذوں پر لڑائی کا خاتمہ دو ہفتوں کے اس سیز فائر پلان کا حصہ تھا جسے امریکہ نے قبول کیا تھا، تاہم مذکورہ ذریعے کے مطابق صہیونی ریاست نے بدھ کی صبح سے لبنان پر پرتشدد حملے کر کے اس معاہدے کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی صبح ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے روکنے کا اعلان کیا تھا جس کے لیے آبنائے ہرمز کو فوری اور مکمل طور پر کھولنے اور دو طرفہ جنگ بندی کی شرط رکھی گئی تھی، تاہم حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ واشنگٹن اور قابض اسرائیل اب تک ایرانی تجویز کے تین نکات پامال کر چکے ہیں۔
میدانی صورتحال یہ ہے کہ قابض اسرائیل نے لبنانی علاقوں پر اپنی فضائی غارت گری تیز کر دی ہے اور بقاع و جنوب کے وسیع علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، واشنگٹن اور تہران کے درمیان عارضی سیز فائر کے اعلان کے باوجود لبنانی محاذ کا مستقبل تاحال ابہام کا شکار ہے کیونکہ اس معاہدے میں لبنان کی شمولیت کے حوالے سے متضاد موقف سامنے آ رہے ہیں۔
ان حالات میں تہران نے کسی بھی قسم کی جنگ بندی کو حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں کی بندش سے مشروط کر دیا ہے جبکہ صورتحال کے علاقائی سطح پر ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھنے کے خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
