Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مسجد اقصیٰ پر صیحونی دھاوا، قبلہ اول کی تقسیم کی گھناؤنی سازش

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر کی جانب سے مسجد اقصی کی بے حرمتی اور اشتعال انگیز دھاوے نے پورے عالم عرب اور عالم اسلام میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑا دی ہے، جبکہ قابض دشمن کی جانب سے یہ مقدس ترین مقام گذشتہ 36 دنوں سے مسلمانوں کے لیے بند ہے اور انہیں ماہ رمضان اور عید الفطر کے دوران بھی یہاں نماز کی ادائیگی سے سفاکیت کے ساتھ روکا گیا۔

یہ سنگین جارحیت ایک ایسے حساس وقت میں کی گئی ہے جب فلسطینی حلقوں کی جانب سے مسلسل انتباہ جاری کیا جا رہا ہے کہ یہ محض ایک علامتی قدم نہیں بلکہ ایک جامع اور خطرناک منصوبے کا حصہ ہے۔ اس مذموم منصوبے کا مقصد مسجد کے اندرونی حالات کو تبدیل کر کے نئے حقائق مسلط کرنا ہے تاکہ آباد کاروں کے دھاووں کو قانونی شکل دی جا سکے اور قبلہ اول کو زمانی اور مکانی طور پر تقسیم کرنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔

آباد کاروں کے لیے راستے ہموار کرنے کی سازش

مسجد اقصی کے امور کے ماہر محقق زیاد ابحيص نے اس اشتعال انگیز اقدام کا تجزیہ کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایتمار بن گویر کا مسجد اقصی میں داخل ہونا کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ نام نہاد عبرانی تہوار پاس اوور کے دوران انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے لیے مسجد کے دروازے کھولنے کی ایک تمہید ہے۔

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ یہ قدم مسلمانوں کے لیے رمضان اور عید الفطر کے دوران مسجد کو مکمل بند رکھنے کے بعد اٹھایا گیا ہے، جو اس منظم اور سفاکانہ پالیسی کا عکاس ہے جس کے تحت اسلامی عبادات پر قدغن لگائی جا رہی ہے اور اس کے مقابلے میں غاصب آباد کاروں کے دھاووں کے دائرے کو وسیع کیا جا رہا ہے۔

ادارہ القدس انٹرنیشنل کی رپورٹس بھی اس تشویشناک صورتحال کی تائید کرتی ہیں جن کے مطابق قابض دشمن اب مسجد اقصی میں آباد کاروں کے غول داخل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ منصوبے کے مطابق ہر گروہ میں 150 آباد کاروں کو گھسایا جائے گا اور اس کے برابر ہی تعداد میں مسلمان نمازیوں کو داخلے کی مشروط اجازت دی جائے گی۔

تقسیم کی کوشش اور برابری کا جھوٹا دعویٰ

ادارہ القدس انٹرنیشنل کا ماننا ہے کہ یہ طریقہ کار دراصل مسجد اقصی کے اندر مسلمانوں اور غاصب آباد کاروں کے درمیان مساوی حق مسلط کرنے کی ایک عملی کوشش ہے، جو قبلہ اول کی حقیقی تقسیم کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

ادارے کے مطابق یہ طریقہ کار اسلامی عبادت کی روح کے منافی ہے جو باجماعت نماز پر مبنی ہے۔ نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنا مسجد کے وسیع رقبے کے لحاظ سے کسی صورت منطقی نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد کو ظاہری طور پر کھلا دکھا کر عملاً مسلمانوں کے لیے بند رکھا جا رہا ہے۔ ادارہ خبردار کرتا ہے کہ یہ اقدام تقسیم کے منصوبے سے بڑھ کر پورے مسجد اقصی کو یہودی رنگ میں رنگنے اور اسے ہڑپ کرنے کے ایک بڑے ایجنڈے کا حصہ ہے۔

رمضان المبارک میں غیر معمولی پابندیاں

یہ تمام تر صورتحال قابض صہیونی افواج کی جانب سے رمضان کے مقدس مہینے میں کی جانے والی ان سخت ترین پابندیوں کا تسلسل ہے جن کے دوران بیس دنوں تک نماز تراویح پر پابندی عائد رہی، مسلسل پانچ جمعوں تک مسجد کو مقفل رکھا گیا اور آخری عشرے میں اعتکاف سے روکا گیا، یہاں تک کہ فرزندان توحید کو عید الفطر کی نماز سے بھی محروم کر دیا گیا۔

اس دوران نہتے نمازیوں پر وحشیانہ تشدد کیا گیا اور وسیع پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، جو مسجد اقصی میں مذہبی شعائر کو نشانہ بنانے کی ایک ایسی مثال ہے جس کی گذشتہ تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ اگرچہ قابض اسرائیل سکیورٹی کے بہانے تراشتا ہے لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ حالات میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ تمام حربے محض مسجد کے اندر نیا نقشہ مسلط کرنے کے بہانے تھے۔

اردن کے کردار کو ختم کرنے کے خطرات

اس صورتحال کے ساتھ ساتھ یہ خدشات بھی سر اٹھا رہے ہیں کہ مسجد اقصی کے انتظامی امور سنبھالنے والے اردن کے محکمہ اوقاف کے کردار کو ختم یا کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، خاص طور پر جب سے وزیر برائے قومی سکیورٹی کو اس فائل میں وسیع اختیارات دیے گئے ہیں۔

ادارہ القدس انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی دراصل ایتمار بن گویر کو مسجد کے کھولنے یا بند کرنے کا اصل فیصلہ ساز بناتی ہے، جو قبلہ اول کے انتظامی ڈھانچے میں ایک بنیادی اور خطرناک تبدیلی ہے اور اس کے تاریخی و قانونی تشخص کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ادارے نے اردن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا فعال کردار بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے اور کسی بھی پابندی کے بغیر مسجد کو کھولنے کا اعلان کر کے نمازیوں کو وہاں پہنچنے کی دعوت دے۔

سرکاری مذمت اور کشیدگی کا انتباہ

سرکاری سطح پر وزارت اوقاف نے ایتمار بن گویر کے دھاوے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک کھلی جارحیت قرار دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مسجد کو مسلمانوں کے لیے بند رکھا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مقدس مقام خالصتاً مسلمانوں کی ملکیت ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی آنچ برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزارت نے عالمی برادری اور مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سفاکیت کو روکنے اور مسجد اقصی کا محاصرہ ختم کروانے کے لیے فوری حرکت میں آئیں۔

دوسری جانب اردن کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ دھاوا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور تاریخی و قانونی حیثیت پر حملہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ زمانی اور مکانی تقسیم مسلط کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی کیونکہ پورا مسجد اقصی اپنے تمام تر رقبے کے ساتھ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کا محکمہ اوقاف ہی اس کا واحد انتظامی ذمہ دار ہے۔

یہودیت مسلط کرنے کا نیا مرحلہ

ان تمام شواہد کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ ایتمار بن گویر کا دھاوا اس منظم سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد علاقائی حالات اور جاری تناؤ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجد اقصی کی شناخت تبدیل کرنا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل اب محدود دھاووں کے بجائے ایک مستقل حقیقت مسلط کرنا چاہتا ہے جہاں آباد کاروں کو منظم تحفظ فراہم کیا جائے اور مسلمانوں کے داخلے کو انتہائی محدود کر دیا جائے۔

مستقل بندش، آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی اور صہیونی ریاست کی براہ راست مداخلت نے قبلہ اول کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کی اسلامی شناخت اور تاریخی حیثیت کو مٹانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ ان حالات میں فلسطینیوں، عربوں اور تمام مسلمانوں کی جانب سے مسجد اقصی کی طرف مارچ کرنے اور اس کا محاصرہ توڑنے کی اپیلیں تیز ہو رہی ہیں، کیونکہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض انفرادی خلاف ورزی نہیں بلکہ نسل کشی کے ایجنڈے کے ساتھ ساتھ گریٹر اسرائیل کے خواب کی تکمیل کے لیے ایک منظم منصوبہ بندی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan