غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ خطہ اس وقت ایک ایسے مسلح فوجی حملے اور کھلی بدمعاشی کے سامنے کھڑا ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کو گولوں اور راکٹوں سے پامال کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دشمن اپنی جارحیت کو وسعت دے کر پورے خطے میں تباہی پھیلا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کی درندگی غزہ کے قتلِ عام اور لبنان و یمن پر بمباری اور ریاست قطر کو نشانہ بنا کر بھی ختم نہیں ہوئی، انہوں نے اشارہ کیا کہ لبنان پر حملے کی بنیاد گذشتہ 15 ماہ سے جاری مسلسل خلاف ورزیوں کے ذریعے رکھی گئی۔
ابو عبیدہ نے واضح کیا کہ دنیا آج اس عارضی ریاست کو صرف ایک ایسے فتنہ انگیز عنصر کے طور پر دیکھ رہی ہے جس کی بقا جنگوں کو بھڑکانے میں ہے، ان کا ماننا ہے کہ دوہرے معیار رکھنے والی دنیا کی آواز صرف اس وقت سنائی دیتی ہے جب فلسطینیوں سے مزید رعایتیں مانگنی ہوں، اور یہی دنیا نام نہاد یلو لائن کو بے گناہ انسانوں کے لیے موت کا جال بنتے دیکھ کر اسے نظر انداز کر دیتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی اسیران کی سزائے موت کے قانون کی منظوری ہر اس شخص کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے جو خاموش تماشائی بنا ہوا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ لوہے، مددگاروں اور لشکروں سے لیس یہ جالوت بھی شکست کھا سکتا ہے بشرطیکہ اس کی ڈھال گرا دی جائے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ دشمن ہمارے برادر ثالثوں کے ذریعے فلسطینی مزاحمت پر جو کچھ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے، انہوں نے وضاحت کی کہ فلسطینی فریق نے ثالثوں کی کوششوں کے احترام اور قابض اسرائیل کے ہاتھ سے بہانہ چھیننے کے لیے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری دیانت داری سے ادا کی ہیں۔
ترجمان نے زور دے کر کہا کہ ہمارے بھائیوں سے مطالبہ ہے کہ وہ اس صہیونی ریاست پر دباؤ ڈالیں کہ وہ دوسرے مرحلے کی بات کرنے سے پہلے پہلے مرحلے کے اپنے وعدوں کو مکمل کرے، انہوں نے تصدیق کی کہ دشمن ہی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ہے اور وقت آگیا ہے کہ جانبدار امریکی انتظامیہ کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے۔
ابو عبیدہ نے واضح کیا کہ اقصی اور اسیران کے خلاف کوئی بھی کارروائی کسی صورت خاموشی سے برداشت نہیں کی جائے گی، چاہے ہمارے عوام کو اس کی کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے، انہوں نے مغربی کنارے، القدس اور مقبوضہ اندرون کے فلسطینیوں سے اپیل کی کہ وہ مسجد اقصیٰ کی جانب پیش قدمی کریں، ساتھ ہی انہوں نے امت مسلمہ اور عالمی برادری کو مسجد اقصیٰ اور فلسطینی اسیران کے دفاع میں احتجاج کی دعوت دی۔
انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایرانی بھائیوں کے خلاف دشمن کے وحشیانہ جرائم، جیسے میناب سکول کا قتلِ عام، دنیا کو غزہ میں ہونے والی نسل کشی کی یاد دلاتے ہیں، انہوں نے ایران کے عظیم شہداء اور ان کے قائدین بالخصوص علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کیے جانے والے زوردار حملے ایران پر ہونے والی صہیو-امریکی جارحیت کا جواب ہیں، ان کا ماننا ہے کہ ایران، لبنان اور یمن کے مجاہدین کے حملے طوفانِ اقصی کا تسلسل ہیں جس کی چنگاری غزہ نے روشن کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان پر وحشیانہ حملہ ہماری امت اور اس کی زندہ قوتوں پر جاری جارحیت کے تناظر میں ایک مکمل جرم ہے، انہوں نے لبنان، وہاں کے عوام اور مزاحمت کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے عزم و ہمت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا جنہوں نے قابض صہیونی دشمن کو بھاری اور ذلت آمیز جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے لبنانی مزاحمت کے ہیروز سے اپنی اس پکار کو دہرایا کہ وہ دشمن کے ساتھ براہِ راست ٹکراؤ کو صہیونی فوجیوں کو قید کرنے کے ایک حقیقی موقع میں تبدیل کریں، انہوں نے مزید کہا کہ ہماری امت کے ممالک اور عوام پر صہیونی حملوں کی یہ دیوانہ وار لہر دشمن کے زوال اور خاتمے کی نوید ہے۔
ابو عبیدہ نے یقین دلایا کہ یہ جارحیت اپنے نتائج حاصل نہیں کر سکے گی اور جس نارملائزیشن (تطبیق) کے وہم کے پیچھے یہ بھاگ رہے ہیں وہ ناکامی کا مقدر ہے، انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس خطے پر صرف اس کے اپنے بیٹوں کی حکومت ہوگی اور یہاں کے وسائل و ثروات پر ان کا اپنا حق ہے، جبکہ گریٹر اسرائیل کا وجود صرف ان طاری ہونے والے وہموں میں ہی رہے گا۔
انہوں نے انتشار اور ضمنی لڑائیوں میں الجھنے سے بچنے کی تنبیہ کرتے ہوئے اپنے خطاب کا اختتام کیا اور اسیران کے دفاع میں کاری ضربیں لگانے کی کال دی، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو لوگ سمندر پار سے ہماری امت پر کوئی نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ امت کتنی عظیم وراثت، تہذیب اور قوت کی مالک ہے۔
