غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) رواں برس فلسطینی بچوں کا قومی دن ایک ایسے موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے جسے انسانیت کی جدید تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ سرکاری اعداد و شمار کی خشک زبان ان لرزہ خیز حقائق کو بیان کرنے سے قاصر ہے جو اس وقت فلسطین، بالخصوص غزہ کی پٹی میں معصوم کلیوں پر بیت رہے ہیں۔ یہاں بارود کی بو، غاصب اسرائیل کا ظالمانہ محاصرہ اور دم توڑتا نظامِ صحت مل کر ایک ایسی ہولناک داستان رقم کر رہے ہیں جس نے فلسطینیوں کی ایک پوری نسل کے وجود کو مٹانے کا عزم کر رکھا ہے۔
فلسطینی مرکزی ادارہ شماریات کے مطابق سنہ 2025ء کے اختتام تک فلسطین کی کل آبادی 55 لاکھ 60 ہزار کے لگ بھگ تھی، جس میں 34 لاکھ 30 ہزار نفوس مغربی کنارے اور 21 لاکھ 30 ہزار غزہ کی پٹی میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس آبادی کا 43 فیصد حصہ یعنی تقریباً 24 لاکھ 70 ہزار وہ بچے ہیں جن کی عمریں 18 برس سے کم ہیں، جو اس جوان اور پرعزم قوم کا ہراول دستہ ہیں۔
میدانِ کارزار کی دہلا دینے والی حقیقت
ان معصوم بچوں کے روشن مستقبل کے خواب اب ملبے کے ڈھیروں تلے دب چکے ہیں۔ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اپریل سنہ 2026ء کے آغاز تک جاری رہنے والی اس سفاکیت میں 72,289 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جن میں سے 21,283 محض ننھے بچے تھے، یعنی ہر تین شہداء میں سے ایک پھول جیسا بچہ تھا۔
ان اعداد و شمار کے پیچھے چھپی داستانیں کلیجہ چیر دینے والی ہیں۔ ان شہداء میں 450 ایسے معصوم تھے جنہوں نے ابھی آنکھ ہی کھولی تھی اور 1,029 شیر خوار ایسے تھے جنہیں زندگی کا پہلا سال بھی نصیب نہ ہوا۔ پانچ سال سے کم عمر کے 5,031 بچوں کا بہنے والا لہو قابض دشمن کی اس نسل کشی کی گواہی دے رہا ہے جس نے عمر کی کوئی تمیز روا نہیں رکھی۔
موت یہاں صرف آسمان سے نہیں گرتی، بلکہ زمین سے بھی اگتی ہے۔ 157 بچے نوالہ نہ ملنے پر بھوک کی تاب نہ لاتے ہوئے سسک سسک کر دم توڑ گئے، جبکہ 25 معصوم روحیں ہجرت کے خیموں میں پڑنے والی یخ بستہ سردی کی نذر ہو گئیں۔ تقریباً 9,500 نفوس، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، اب بھی ملبے تلے دبے اپنی گمنام قبروں کے منتظر ہیں۔
زخمیوں کا حال اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔ کل 172,040 زخمیوں میں سے 44,486 بچے ہیں، جن میں سے 10,500 اب عمر بھر کے لیے معذوری کا بوجھ ڈھونیں گے۔ ایک ہزار سے زائد بچوں کے اعضاء کاٹ دیے گئے ہیں، جبکہ 4 ہزار بچے سسکتی زندگی اور یقینی موت کے درمیان لٹک رہے ہیں کیونکہ انہیں بیرون ملک طبی امداد کے لیے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ مغربی کنارے میں بھی صورتحال مختلف نہیں جہاں 1,145 شہداء میں 237 بچے شامل ہیں۔
عقوبت خانے اور قحط زدہ بچپن
قابض صہیونی دشمن کی درندگی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں۔ مغربی کنارے اور القدس سے جنگ کے دوران 1,655 بچوں کو اغوا کر کے قید کیا گیا۔ سنہ 2025ء میں 600 گرفتاریاں ہوئیں اور آج بھی 350 معصوم بچے قابض صہیونی عقوبت خانوں کی تاریک کوٹھڑیوں میں انسانیت سوز مظالم سہہ رہے ہیں۔
غزہ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ فروری سنہ 2026ء میں 3,700 سے زائد بچوں کو شدید غذائی قلت کے باعث ہسپتالوں میں لایا گیا، جن میں سے 600 زندگی اور موت کی کشمکش میں تھے۔ اندازہ ہے کہ 31 ہزار بچے محض خوراک کی عدم دستیابی کی وجہ سے موت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
صحت کا نظام اس حد تک مفلوج ہو چکا ہے کہ 94 فیصد طبی مراکز یا تو زمین بوس ہو چکے ہیں یا کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ 14 لاکھ در بدر فلسطینیوں میں لاکھوں وہ بچے ہیں جن کے پاس سر چھپانے کو چھت ہے نہ پینے کو صاف پانی۔ مغربی کنارے میں بھی فوجی کارروائیوں نے 12 ہزار سے زائد بچوں کو ان کے گھروں سے محروم کر دیا ہے۔
علم دشمنی اور نفسیاتی صدمات
تعلیمی نظام پر ہونے والے وار بھی کاری ہیں۔ غزہ میں 179 سرکاری سکولوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے، جبکہ انروا کے زیر انتظام چلنے والے 100 سکولوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ سنہ 2025ء اور سنہ 2026ء کے تعلیمی سال میں 7 لاکھ طلبہ علم کی روشنی سے محروم رہے اور دسیوں ہزار بچے اپنے امتحانات نہ دے سکے۔
مغربی کنارے میں 120 طلبہ کی شہادت اور سینکڑوں کی گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن فلسطینیوں کے قلم کو توڑ دینا چاہتا ہے۔ اس مادی تباہی سے کہیں زیادہ ہولناک وہ نفسیاتی زخم ہیں جو غزہ کے 11 لاکھ بچوں کے ذہنوں پر لگ چکے ہیں۔
پانی کی شدید قلت اور آلودگی نے وبائی امراض کا راستہ کھول دیا ہے۔ سنہ 2025ء میں اسہال اور یرقان کے لاکھوں کیسز سامنے آئے، جن میں پانچ سال سے کم عمر کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ماہرین کے مطابق یہ محض ایک جنگ نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک قوم اور اس کے مستقبل یعنی بچوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ایک منظم اور سفاکانہ سازش ہے۔
غزہ کے معصوم بچوں کے ان سسکتے خوابوں اور بہتے آنسوؤں پر عالمی ضمیر کی خاموشی تاریخ کا سب سے بڑا سوالیہ نشان رہے گی۔ کیا دنیا اب بھی اس نسل کشی کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی؟۔
