غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین میں مرکز برائے مفقودین و جبری لاپتہ افراد نے کہا ہے کہ 5 اپریل سنہ 2026ء کو منایا جانے والا ‘فلسطینی بچوں کا دن’ ان سینکڑوں بچوں کے المیے کی یاد دلاتا ہے جو غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی بمباری سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں یا مختلف راستوں سے غائب ہو گئے ہیں۔ مرکز نے خبردار کیا ہے کہ یہ دن ایک ایسے تباہ کن واقعے کے سائے میں آیا ہے جس کا سامنا غزہ کے بچے قابض اسرائیل کے مسلسل حملوں کی صورت میں کر رہے ہیں، جنہوں نے ان کی زندگیوں کو موت، محرومی اور گمشدگی کے کھلے میدان میں بدل دیا ہے۔
مرکز نے آج اتوار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں ان ہزاروں بچوں کے المیے کی تصدیق کی ہے جو اب بھی لاپتہ ہیں یا ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کل 8 ہزار لاپتہ افراد میں سے تقریباً 2700 بچے اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ڈھیر تلے موجود ہیں، جبکہ غزہ کی پٹی میں 29 ماہ سے جاری اسرائیلی نسل کشی کے دوران اب تک 21,510 بچے شہید ہو چکے ہیں۔
انسانی حقوق کے اس مرکز نے زور دے کر کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس بے مثال انسانی تباہی کی عکاسی کرتے ہیں جس نے معاشرے کے سب سے کمزور طبقے کو نشانہ بنایا ہے، جو کہ بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے تمام قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
مرکز نے اشارہ کیا کہ غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں تقریباً 200 بچوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور ان کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یا تو انہیں قابض اسرائیلی فوج نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے یا پھر وہ براہ راست حملوں کا نشانہ بنے جس سے ان کے جسدِ خاکی راستوں میں ہی ضائع ہو گئے۔ مرکز نے وضاحت کی کہ اس کے محققین نے ایسے کیسز دستاویزی شکل میں محفوظ کیے ہیں جہاں بچوں کو اٹھایا گیا اور پھر ان کے انجام یا حراستی مقامات کا انکشاف کیے بغیر انہیں جبری لاپتہ کر دیا گیا، خاص طور پر امدادی مراکز کے گردونواح اور اسرائیلی فوجی کنٹرول والے علاقوں میں ایسا کیا گیا۔
بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ رہا ہونے والے اسیران کے بیانات اور تبادلے کے سودوں کے تحت رہا ہونے والے بچوں کے کیسز سے ظاہر ہوا ہے کہ ان میں سے متعدد بچوں کو دورانِ حراست شدید قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسروں کا انجام اب تک نامعلوم ہے۔
بیان کے مطابق لاپتہ بچوں کی ایک بڑی تعداد ان مقامات کی طرف گئی تھی جہاں انسانی امداد تقسیم کی جا رہی تھی یا وہ اس وقت غائب ہوئے جب وہ ان علاقوں سے آٹا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں انتہائی خطرناک قرار دیا گیا تھا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب غزہ کی پٹی میں بھوک کی لہر عروج پر تھی۔ دیگر بچے لکڑیاں جمع کرتے ہوئے یا اپنے تباہ شدہ گھروں سے زندگی بچانے کے لیے کچھ سامان نکالنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہوئے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بچے ایک ایسے ماحول میں روزانہ کس قدر خطرات کا سامنا کر رہے ہیں جہاں تحفظ کا نام و نشان نہیں۔
انسانی حقوق کے مرکز نے مزید کہا کہ ہزاروں بچوں کے جسدِ خاکی کا ملبے تلے دبے رہنا انسانی وقار کی سنگین ترین توہین ہے اور ان کے لواحقین کی تکلیف کو دوچند کر دیتا ہے جو مستقل پریشانی اور بے یقینی کی کیفیت میں جی رہے ہیں۔ ملبے سے لاشیں نکالنے اور لاپتہ افراد کے انجام کا تعین کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کرنا مجرموں کو سزا سے بچنے کی پالیسی کو تقویت دیتا ہے اور فلسطینی معاشرے کے انسانی زخموں کو مزید گہرا کرتا ہے۔
مرکز نے اس المیے کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر بین الاقوامی تحرک کا مطالبہ کیا ہے، جس میں بچاؤ ٹیموں کے لیے محفوظ راستے کھولنے، مناسب مشینری فراہم کرنے، تباہ شدہ علاقوں تک ان کی رسائی ممکن بنانے اور ملبہ ہٹانے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا شامل ہے۔
مرکز نے بچوں کے خلاف جبری گمشدگی کے جرائم کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات، ذمہ داروں کے احتساب اور تمام زیرِ حراست یا لاپتہ بچوں کے انجام کے فوری انکشاف کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
مرکز نے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ مسلح تنازعات کے دوران بچوں کا تحفظ ایک قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے جسے بین الاقوامی قوانین نافذ کرتے ہیں، اور انہیں نشانہ بنانا یا موت اور جبری گمشدگی کے خطرے سے دوچار کرنا ایک ایسا جرم ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتا۔
