غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) عالمی طبی تنظیم “ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز” نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ کی پٹی میں امدادی سامان کے داخلے پر عائد پابندیاں طبی اشیاء کی شدید اور خطرناک قلت کا باعث بن رہی ہیں۔ بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات کے پیش نظر یہ صورتحال بنیادی طبی خدمات میں کمی یا ان کی مکمل معطلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
تنظیم نے اتوار 5 اپریل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ سنہ 2026ء کے آغاز سے اب تک ان کی تقریباً تمام طبی سپلائی کو غزہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے اور ساتھ ہی بین الاقوامی طبی عملے کی رسائی پر بھی پابندی عائد ہے۔ ان رکاوٹوں نے مریضوں اور زخمیوں کو طبی نگہداشت فراہم کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیا ہے۔
بیان میں وضاحت کی گئی کہ جن اشیاء کے داخلے پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں سرجیکل آلات، اینٹی بائیوٹکس اور درد کش ادویات جیسی اہم ادویات کے علاوہ زخموں کے علاج کے لیے ضروری سامان بھی شامل ہے۔ مسلسل فوجی کارروائیوں اور زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث ان پابندیوں نے ہزاروں متاثرہ فلسطینیوں کی تکالیف میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
تنظیم نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل کی پابندیاں اور پیچیدہ طریقہ کار انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد کی روانی میں بڑی رکاوٹ ہیں جس سے امداد کی فراہمی میں خطرناک حد تک تاخیر ہو رہی ہے۔ اس تلخ حقیقت نے طبی عملے کو ادویات کے راشننگ (محدود استعمال) اور وسائل کی عدم دستیابی کے باعث بعض مریضوں کو داخل کرنے سے معذرت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
تنظیم نے واضح کیا کہ غزہ میں طبی ضروریات بے مثال سطح تک پہنچ چکی ہیں جہاں لاکھوں مریضوں کو فوری طبی خدمات بشمول جراحی، طویل مدتی علاج اور نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ کا نظام صحت شدید دباؤ کا شکار ہے اور اس کے وسائل تقریباً تباہ ہو چکے ہیں۔
تنظیم نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں لگائی جا رہی ہیں جب بین الاقوامی انسانی قانون قابض اسرائیل پر بطور قابض قوت یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ سویلین آبادی تک انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی کو یقینی بنائے۔ تنظیم نے ان پالیسیوں کو صحت کے بحران میں اضافے اور مریضوں کی زندگیوں کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا ہے۔
ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے ان پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرنے اور طبی سپلائی سمیت انسانی ہمدردی کے عملے کو بلا رکاوٹ داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے متنبہ کیا کہ موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں طبی خدمات مزید تباہ ہو سکتی ہیں جس سے ہزاروں مریض زندگی بچانے والے علاج سے محروم ہو جائیں گے۔
