مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل براہ راست مسجد کے انتظامی امور میں مداخلت کر رہا ہے اور مسلسل 36 دنوں سے بندش برقرار رکھ کر وہاں اپنی خودساختہ حاکمیت اور تسلط مسلط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
شیخ عکرمہ صبری نے مسجد اقصیٰ کی بلا جواز بندش کے تسلسل اور ماہِ رمضان المبارک کے دوران لاکھوں مسلمانوں کو اس مقدس مقام پر نماز کی ادائیگی سے محروم کیے جانے پر گہرے دکھ اور کرب کا اظہار کیا۔
خطیبِ اقصیٰ نے مسجد کی بندش کے حوالے سے قابض اسرائیل کے سکیورٹی بہانوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطین کی دیگر مساجد اور بازار کھلے ہوئے ہیں، انہوں نے شرعی اور مذہبی نقطہ نظر سے مسجد اقصیٰ کی بندش کے ناجائز ہونے کے موقف کا اعادہ کیا۔
شیخ عکرمہ صبری نے عرب اور اسلامی ممالک کے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے متحرک ہوں تاکہ نمازیوں کے لیے مسجد اقصیٰ کے دروازے کھلوائے جا سکیں۔
انہوں نے اس بات پر سخت زور دیا کہ القدس شہر کی اہمیت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسی ہے، اور مسجد اقصیٰ کا مقام مسجد حرام جیسا ہی ہے، انہوں نے یاد دلایا کہ القدس محض فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا اثاثہ ہے۔
