تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایران کی پاسداران انقلاب نے جمعہ کے روز ملک کے وسطی حصے میں ایک امریکی ایف 35 لڑاکا طیارہ مار گرانے کا اعلان کیا ہے۔ جاری جنگ کے دوران تہران کی جانب سے اسی ماڈل کا یہ دوسرا طیارہ ہے جسے ایرانی افواج نے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے پاس موجود جدید ترین دفاعی فضائی نظام نے اس لڑاکا طیارے کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تاہم واقعے کے عین مقام کی وضاحت نہیں کی گئی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ لڑاکا طیارے کے مکمل طور پر تباہ ہو جانے کی وجہ سے پائلٹ کا انجام تاحال معلوم نہیں ہو سکا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے ایسی ویڈیوز اور تصاویر بھی نشر کی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مار گرائے گئے امریکی لڑاکا طیارے کا ملبہ ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری سنہ 2026ء کے بعد سے یہ دوسرا امریکی ایف 35 طیارہ ہے جسے گرانے کا ایران نے اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل 19 مارچ سنہ 2026ء کو پہلے طیارے کو مار گرانے کی خبر دی گئی تھی۔
پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق یہ لڑاکا طیارہ اس سکواڈرن کا حصہ تھا جو برطانیہ میں قائم لاکن ہیتھ ایئربیس پر تعینات ہے جہاں امریکی فضائیہ کے دستے بھی موجود ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے جمعہ کی صبح ایران کے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم معروف ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ ایران نے ایک امریکی جنگی طیارہ مار گرایا ہے اور اس کے پائلٹ لاپتہ ہیں۔
مختلف ایرانی رپورٹس کے مطابق لاپتہ امریکی پائلٹوں کی تلاش اور ریسکیو آپریشن کے لیے متعدد امریکی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو ایرانی فضائی حدود میں دیکھا گیا ہے۔ ان رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان طیاروں اور ایرانی مسلح افواج کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جبکہ ایک ہیلی کاپٹر کو بھی مار گرانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
گذشتہ روز یعنی جمعرات کو بھی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم کے جنوب میں ایک جدید جنگی طیارہ مار گرانے کا اعلان کیا تھا جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس کا تعلق امریکہ اور قابض اسرائیل کے اتحاد سے ہے تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔
