Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

فلسطینی قیدیوں کے خلاف قانون پر عبدالملک الحوثی کی شدید تنقید

صنا – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یمنی تحریک انصار اللہ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یمن مشرق وسطیٰ کے خدوخال بدلنے کے لیے قابض اسرائیل کے ان منصوبوں پر خاموش نہیں رہے گا جن کا مقصد خطے کی صورتحال کو تبدیل کرنا ہے۔

الحوثی نے اپنے ایک خطاب میں واضح کیا کہ عسکری کارروائیاں اب عملی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور جہاد و مزاحمت کے محور کی مشترکہ کارروائیوں کے تحت میزائل اور ڈرون حملوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ دشمن قوتوں کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی نئی تشکیل کی باتیں دراصل خطے کے تمام ممالک کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں اور یمن اس سے لا تعلق نہیں رہے گا۔

اسی تناظر میں الحوثی نے کہا کہ موجودہ تنازعات کے دوران قابض اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مزاحمت کا موقف سب سے پاکیزہ اور دانشمندانہ موقف ہے اور قابض اسرائیل کے خلاف قتال ہی واضح ترین راستہ ہے۔

ان کا ماننا تھا کہ امت کا متحد ہونا ظالم کافروں کے محور کے مقابلے میں ایک متحدہ محاذ بنانے کے لیے کافی تھا اور حالیہ محاذ آرائی تاریخ کی موثر ترین جدوجہد ثابت ہو رہی ہے۔

ایک اور پہلو پر بات کرتے ہوئے الحوثی نے ان نظریات سے خبردار کیا جن کا منبع صہیونی ہے اور جن کا مقصد عربوں کو قابض اسرائیل کے ساتھ محاذ آرائی سے دور کرنا ہے تاکہ فکری جنگ جیتی جا سکے۔

انہوں نے بعض عرب حکومتوں کی جانب سے اس طرح کے لایعنی خیالات اپنانے پر کڑی تنقید کی جبکہ قابض اسرائیل کی جانب سے عربوں کے خلاف کھلی دشمنی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ان حلقوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جو مزاحمتی محور کے تشخص کو بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جیسا کہ ماضی میں غزہ کے مجاہدین کے موقف کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

حالیہ دنوں میں اسرائیلی کنيسٹ کی جانب سے منظور کیے گئے اسیران کی سزائے موت کے قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے الحوثی نے اسے ایک بہت ہی ہولناک جرم قرار دیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan