فلسطین – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی کی جانب سے دو دن قبل منظور کیے گئے فلسطینی اسیران کی سزائے موت کے قانون پر عالمی سطح پر تنقید کی لہر میں تیزی آگئی ہے۔ 31 انسانی حقوق اور عالمی امدادی تنظیموں نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس نسلی پرست اسرائیلی قانون کے خلاف فوری اقدامات کرے تاکہ انسانی حقوق کے نظام کو بچایا جا سکے۔
یہ مطالبات ان تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں سامنے آئے ہیں جو برسوں سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سرگرم ہیں۔ ان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ بھی شامل ہیں جنہوں نے اس قانون کو ایک ہولناک پیش رفت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
تنظیموں نے کہا ہے کہ کنيسٹ کا یہ فیصلہ کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت کو لازمی قرار دیا جائے گا عملی طور پر صرف فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
بیان میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ یورپی یونین ہمیشہ سے سزائے موت کو ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیتی آئی ہے اور یہ نئی اسرائیلی قانون سازی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ بنیادی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
تنظیموں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس قانون کی امتیازی نوعیت حق زندگی کی خلاف ورزی ہے اور یہ چوتھے جنیوا کنونشن اور تشدد کے خلاف عالمی کنونشن کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔
بیان میں توجہ دلائی گئی کہ یورپی یونین کی جانب سے اسرائیل پر اپنی پالیسیاں بدلنے کے لیے ڈالے گئے دباؤ کے اب تک کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں حالانکہ جون سنہ 2025ء میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ قابض اسرائیل نے غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔
تنظیموں نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اعلانیہ موقف کو عملی اقدامات میں تبدیل کرے اور قابض اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے کے تجارتی حصے کو فوری طور پر معطل کرے جیسا کہ ستمبر سنہ 2025ء میں تجاویز دی گئی تھیں۔
واضح رہے کہ اسرائیلی کنيسٹ نے 30 مارچ سنہ 2026ء کو اس قانون کی منظوری دی تھی جس نے دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
یہ قانون ججوں کے اتفاق رائے کے بغیر سادہ اکثریت سے سزائے موت سنانے کی اجازت دیتا ہے اور اس کا اطلاق فوجی عدالتوں پر بھی ہوگا جبکہ وزیر دفاع کو عدالت کے سامنے رائے دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
کمیشن برائے امور اسیران کے مطابق اس قانون کا نشانہ وہ 117 فلسطینی اسیران بنیں گے جن پر اسرائیلیوں کے قتل کا الزام ہے۔ دوسری جانب قابض صہیونی عقوبت خانوں میں 9500 سے زائد فلسطینی قید ہیں جنہیں تشدد اور طبی غفلت جیسی سفاکیت کا سامنا ہے۔
