قاہرہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریکِ مزاحمت (حماس) کی قیادت کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد غزہ میں تحریک کے سربراہ خلیل الحیہ کی سربراہی میں بدھ کی شام مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا ہے تاکہ سیز فائر کے معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی اور مصری قیادت کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی جا سکے، وفد نے قاہرہ پہنچتے ہی مصر، قطر اور ترکیہ سے تعلق رکھنے والے ثالثین کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
طے شدہ شیڈول کے مطابق یہ وفد مختلف امور پر مشترکہ قومی موقف اختیار کرنے کے لیے فلسطینی دھڑوں کے قائدین اور ذمہ داران کے ساتھ متعدد اہم قومی ملاقاتیں بھی کرے گا۔
خلیل الحیہ کی سربراہی میں اس وفد نے گذشتہ دو روز کے دوران ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن اور وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں، ان ملاقاتوں میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کی تازہ ترین میدانی صورتحال اور سیز فائر معاہدے کی آڑ میں قابض اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی کھلی خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، واضح رہے کہ سیز فائر کے آغاز سے اب تک شہدا کی تعداد 700 کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ قابض دشمن نے یلو لائن کے گرد غزہ کی پٹی کے کئی علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔
وفد نے اپنی ملاقاتوں میں مذاکراتی عمل کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا اور شرم الشیخ معاہدے کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا، خاص طور پر اس بات پر کہ قابض اسرائیل کو پہلے مرحلے کی تمام ضروری شرائط پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے، اس کے علاوہ وفد نے غزہ کی پٹی کی انسانی اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ بھی دی۔
وفد نے القدس اور مسجد اقصیٰ کی صورتحال پر بھی گفتگو کی جہاں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد ہے اور یہاں تک کہ جمعہ اور عید کی نمازوں سے بھی روکا جا رہا ہے، یہ ایک خطرناک صورتحال ہے جس سے مسجد اقصیٰ پر قبضے اور اس کے تشخص کو مسخ کر کے اسے یہودیانے کے دشمن کے مذموم منصوبوں کو تقویت ملنے کا خدشہ ہے۔
ملاقاتوں میں صہیونی کنیسٹ کی جانب سے منظور کیے جانے والے نام نہاد قانون برائے اعدامِ اسیران پر بھی بات چیت ہوئی، اس خطرناک قدم سے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید ہزاروں فلسطینی اسیران کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں کیونکہ یہ قانون ایتمار بن گویر جیسے انتہا پسندوں کو اس بات کا قانونی حق فراہم کرتا ہے کہ وہ اس نام نہاد قانون کی آڑ میں فلسطینیوں کا قتلِ عام کریں۔
