مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل نے اسرائیلی سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ چودہ سالہ ننھے فلسطینی شہید ودیع شادی علیان کا جسدِ خاکی گذشتہ تقریباً چھ ماہ سے گمنام قبرستان میں دفن کر دیا گیا ہے۔ یہ انکشاف عدالت میں دائر کی گئی ایک نئی پٹیشن کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں شہید کے جسدِ خاکی کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
قابض اسرائیل کی پراسیکیوٹر جنرل کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ بچے کی تدفین کا یہ عمل 29 اکتوبر سنہ 2025ء کو انجام دیا گیا، حالانکہ سپریم کورٹ نے گذشتہ اگست میں ایک سابقہ فیصلے کے ذریعے جسدِ خاکی کو محض تحویل میں رکھنے کی توثیق کی تھی، مگر سفاک دشمن نے اسے ورثاء کے حوالے کرنے کے بجائے گمنام قبرستان ’مقابرالارقام‘ کی نذر کر دیا۔
ننھا ودیع علیان پانچ فروری سنہ 2024ء کو مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق میں واقع قصبہ العیزریہ کے داخلی راستے پر قابض اسرائیلی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوا تھا۔ اس وقت سامنے آنے والی ویڈیو کلپس میں انسانیت سوز مناظر دیکھے گئے تھے جن میں قابض فوجیوں نے اس معصوم بچے پر اس وقت بھی گولیاں برسائیں جب وہ لہولہان حالت میں زمین پر گرا ہوا تھا۔
وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کے مطابق غاصب صہیونی حکام نے القدس گورنری سے تعلق رکھنے والے 30 شہدا کے اجسادِ خاکی تاحال اپنی تحویل میں دبا رکھے ہیں، جن میں سب سے قدیم جسدِ خاکی اکتوبر سنہ 2016ء سے دشمن کی قید میں ہے۔ ان شہدا میں 18 سال سے کم عمر کے 10 معصوم بچے بھی شامل ہیں، جن میں سب سے کم عمر یہی 14 سالہ شہید ودیع علیان تھا۔ ان گمنام قبرستانوں کا استعمال فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کی شناخت مٹانے کی صہیونی پالیسی کا ایک تسلسل ہے، جہاں شہداء کے ناموں کے بجائے ان کی قبروں پر محض نمبر لگا دیے جاتے ہیں۔
