Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

تل ابیب پر ایرانی میزائل حملے، متعدد شہری زخمی

تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیلی ایمبولینس سروس نے جمعرات دو اپریل سنہ 2026ء کے اولین گھنٹوں میں ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے نتیجے میں تل ابیب کے مضافاتی علاقے بنی براک میں 5 افراد کے مختلف نوعیت کے زخموں سے زخمی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق مقبوضہ فلسطین کے وسطی علاقوں کی جانب میزائلوں کی یہ تازہ لہر تقریباً 5 گھنٹے کے نسبتاً سکون کے بعد آئی ہے جس نے خاص طور پر بنی براک کے علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔

اسرائیلی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے وسطی علاقوں کی طرف داغی گئی حالیہ کھیپ میں کلسٹر میزائلوں کا استعمال کیا ہے، یہ حملہ گذشتہ روز بدھ کو ہونے والی ایرانی ضربات کی ان متواتر لہروں کے بعد کیا گیا ہے جن میں زیادہ تر بیلسٹک اور کلسٹر میزائل شامل تھے۔

اسرائیلی ریڈیو نے رپورٹ دی ہے کہ گریٹر تل ابیب کے علاقے میں 11 مقامات پر کلسٹر میزائل کے ٹکڑے گرے ہیں جس کے باعث رمات غان، بنی براک اور تل ابیب کے علاقوں میں شدید مالی نقصان ہوا ہے۔

دوسری جانب چینل 13 کا کہنا ہے کہ حالیہ حملہ ایران اور حزب اللہ کی جانب سے ایک ہی وقت میں کیا گیا ایک دوہرا وار تھا جس نے مقبوضہ علاقوں کے وسطی اور شمالی حصوں کو بیک وقت نشانہ بنایا۔

اسی دوران عبرانی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شظایا گرنے کے نتیجے میں اسی علاقے میں پانی کے نیٹ ورک اور بڑی تعداد میں گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ عبرانی ویب سائٹ والا نے لبنان سے داغے گئے میزائلوں کے نتیجے میں گلیل کے شہر شفا عمرو میں ایک عمارت کے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔

شمالی محاذ پر لبنانی تنظیم حزب اللہ نے مقبوضہ حیفہ شہر کے مشرق میں واقع کریات آتا کے علاقے میں قابض اسرائیل کے بنیادی ڈھانچے کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان عکا، خلیج حیفہ اور بالائی گلیل کے وسیع علاقوں کے ساتھ ساتھ تل ابیب اور مغربی کنارے کی بستیوں میں خطرے کے سائرن گونجنے کے ساتھ ہی سامنے آیا ہے، جبکہ اسرائیلی ہوم فرنٹ کی جانب سے آباد کاروں کو پناہ گاہوں کے قریب رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اشارہ دیا ہے کہ یہودی عید الفصح کے دوران ایران اور حزب اللہ کی جانب سے میزائل داغنے کی رفتار میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan