کریات/ شمونہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنان کی سرزمین سے داغے گئے میزائلوں نے قابض اسرائیل کی غیر قانونی بستی کریات شمونہ میں عمارتوں اور گاڑیوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے جبکہ شمالی مقبوضہ فلسطین کے وسیع علاقوں میں خطرے کے سائرن مسلسل گونج رہے ہیں۔
قابض اسرائیلی میڈیا بشمول چینل 12 کی جانب سے نشر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میزائل حملوں کے نتیجے میں تباہ حال عمارتوں اور گاڑیوں سے دھوئیں کے بادل بلند ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی چینل 14 نے تصدیق کی ہے کہ لبنان سے داغے گئے میزائلوں کے نتیجے میں کریات شمونہ کے اندر ایک عمارت کو براہ راست نشانہ بنایا گیا جس سے اسے شدید نقصان پہنچا۔
بدھ کی صبح سے ہی متعدد شمالی بستیوں میں سائرن بجنے کا سلسلہ جاری ہے جو لبنانی علاقوں سے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی آمد کے بعد شروع ہوا۔ چینل 12 کے مطابق بدھ کی سہ پہر نہاریہ شہر اور اس کے گرد و نواح کی طرف تقریباً 10 میزائل داغے گئے جس کے بعد علاقے میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
مذکورہ چینل نے دعویٰ کیا کہ کچھ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ دیگر کھلے مقامات پر گرے تاہم آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی کیونکہ قابض اسرائیل حملوں کے اصل نتائج کو چھپانے کے لیے سخت سنسرشپ اور تعتیم کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
یہ فوجی تناؤ گذشتہ دو مارچ سنہ 2026ء سے جاری اس تصادم کا تسلسل ہے جب قابض اسرائیل نے لبنان پر اپنی عسکری کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا تھا۔ یہ صورتحال ان حملوں کے ساتھ پیش آ رہی ہے جو قابض اسرائیل امریکہ کی شراکت داری کے ساتھ 28 فروری سنہ 2026ء سے ایران پر کر رہا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے قابض اسرائیل کے مسلسل حملوں کے جواب میں مارچ کے اوائل میں ایک اسرائیلی فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ جھڑپیں نومبر سنہ 2024ء میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود جاری ہیں جس کے بعد قابض اسرائیل نے بیروت کے جنوبی ضاحیہ اور جنوبی و مشرقی لبنان کے علاقوں پر فضائی حملوں کی لہر شروع کر دی اور ساتھ ہی زمینی دراندازی کی کوششیں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔
