Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

لاطینی پادری کا القدس میں عبادت کی آزادی کے لیے مطالبہ

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) القدس میں لاطینی بطريرکيہ نے زور دیا ہے کہ قابض اسرائیلی پولیس نے وسیع پیمانے پر دباؤ اور ردعمل کے بعد لاطینی بطريرک کارڈینل پیئرباتیسٹا پیزابالا کو مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر میں واقع کنیسہ قیامہ‘چرچ آف ہولی سیپلکر) میں داخل ہونے اور کھجور کے اتوار (پام سنڈے) کی مناسبت سے دعا کی تقریب منعقد کرنے سے روکنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

لاطینی بطريرکيہ کے جنرل پیٹریاڑکل وکر بشپ ولیم الشوملی نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ قابض پولیس نے بطريرک کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا ہے جس میں جمعرات سے محدود تعداد میں مذہبی پیشواؤں کو کنیسہ قیامت کے اندر عبادات کی ادائیگی کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بشرطیکہ وہ سرکاری دروازے سے ہی داخل اور خارج ہوں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس فیصلے کا اطلاق باقی گرجا گھروں پر بھی کیا جائے گا۔

اسی تناظر میں الشوملی نے انکشاف کیا کہ اجلاس کے دوران بطريرکية نے مطالبہ کیا کہ مسجد اقصیٰ کے دروازے بھی ان نمازیوں کے لیے کھولے جائیں جنہیں قابض حکام نے 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے آغاز سے وہاں پہنچنے سے روک رکھا ہے۔

قابض اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کو 15 اپریل سنہ 2026ء تک بند رکھنے کا فیصلہ کر رکھا ہے، جسے شہر کے اسلامی اوقاف کو دی گئی اطلاع کے مطابق سنہ 1967ء میں القدس پر قبضے کے بعد سے اب تک کی طویل ترین بندش قرار دیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی پسپائی کا پس منظر ان عرب اور عالمی تنقید کی لہروں میں چھپا ہے جو اتوار کے روز قابض پولیس کی جانب سے بطريرک پیزابالا کو ان کے ساتھی فادر فرانسسکو ایلبو سمیت کنیسہ قیامت جانے سے روکنے اور انہیں واپس جانے پر مجبور کرنے کے بعد پیدا ہوئیں، بطريرکيہ کے بیان کے مطابق وہ دونوں کسی بھی جشن کی علامت کے بغیر انفرادی طور پر وہاں جا رہے تھے۔

بیان میں اس قدم کو ایک خطرناک مثال قرار دیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ پابندی ہنگامی حالات اور قابض اسرائیلی فوج کے ہوم فرنٹ کی ہدایات کے بہانے ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں لگائی گئی تھی، جسے دنیا بھر کے اربوں مسیحیوں کے جذبات کی توہین قرار دیا گیا۔

الشوملی نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیل نے پہلے ہر گرجے یا مسجد میں نمازیوں کی تعداد صرف 50 تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن بعد میں پناہ گاہوں کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر اس تعداد سے بھی مکر گیا، انہوں نے مزید کہا کہ بطريرک کو چرچ میں داخل ہونے سے اس وقت روکا گیا جب وہ اپنی ذاتی ذمہ داری پر دعا کے لیے جا رہے تھے تاکہ سال کے اس مقدس ترین دور اور مسیحیوں کے لیے مقدس ترین مقام پر عبادات کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی پسپائی ان بین الاقوامی اور عرب ردعمل کے دباؤ کا نتیجہ ہے جنہوں نے القدس میں گرجا گھروں اور نمازیوں کے خلاف ان اقدامات کی شدید مذمت کی تھی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan