Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

پی ایل ایف نیوز

مغربی ایشیا کے مستقبل کی تشکیل: فلسطین کا مسئلہ اور ایران کے خلاف جنگ بین الاقوامی ویبنار کا انعقاد

کراچی(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)فلسطین فائونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام مغربی ایشیاکے مستقبل کی تشکیل: فلسطین کا مسئلہ او ایران کے خلاف جنگ کے عنوان پر بین الاقوامی آن لائن ویبنار کا انعقاد فلسطین فائونڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم کی صدارت میں کیا گیا جس میں پاکستان، فلسطین اور ایران سمیت امریکہ اور لندن ، ملائیشیا، انڈونیشیا، یمن ، لبنان ،ہندوستان، بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک کے سیاسی اور دانشور شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے متفقہ طور پر فلسطین، لبنان اور ایران پر جاری امریکی و اسرائیلی جارحیت کو کھلی دہشتگردی قرار دیا اور ایران سمیت لبنان اور فلسطین کی دفاعی کاروائیوں کو ان کا جائز حق قرار دیا۔ مقررین نے کہاکہ ایران ہو یا لبنان سب کے سب فلسطین کاز کے لئے قربانیاں دے رہےہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں، انسانی حقوق نام کی کوئی چیز باقی نہیں ہے۔
عالمی آن لائن ویبنار کی نطامت کے فرائض ڈاکٹر ثوبیہ عرفان اور ڈاکٹر عامر حسین نے انجام دیئے ۔
پاکستان کے سابق سفیر غلام رسول بلوچ نے کہا کہ آج مسلم دنیا کو اتحاد کی ضرورت ہے جب تک مسلم امہ تقسیم رہے گی امریکہ اور اسرائیل جیسی جاح قوتیں مسلمانوں کے ممالک کو تباہ کرتی رہیں گی۔ استعماری طاقتوں نے ماضی میں بھی ایسی ہی تباہی کا فائدہ اٹھایا اورآج بھی دنیا میں مزید تباہی پھیلا کر اپنے طاقت کو مجبوط کر رےہیں۔ انہوںنے بالفور اعلامیہ اور ابراھیمی معاہدہ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ہمیں فلسطین ، لبنان اور ایران کے ساتھ کھڑا ہونا ہے ورنہ یہ جنگ مزید پھیلی چلے جائے گی۔
ویبنامیںایران سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ مفکر اور دانشور ڈاکٹر فواد ایزادی نے کہا کہ ایران اپنا دفاع کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے اور اس حق کو استعمال کیا جا رہاہے۔ انہوںنے کہا کہ ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد امریکہ نے اپنے فوجیوں کو خلیجی ممالک کے ہوٹلز میں منتقل کر نا شروع کر دیا ہے البتہ ایران نے خلیجی ممالک کو واضح کیا ہے کہ امریکی فوجی ایران کا ہدف ہیں اورایران ان امریکی فوجیوں کو نشانہ بنائے گا۔ انہوںنے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں معصوم بچوں پر بمباری کی ہے اور نیتن یاہو نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی ہے اور اب ایسی ہی نسل کشی کو ایران میں مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ آج ایران سمیت دنیا کو ایسے شیطانی طبقہ کا سامنا ہے جو ایپسٹین فائلزکے بدنام زمانہ ہیں۔
فلسطین سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالطیف حاج نے کہا کہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل نے میرے خاندان کے چالیس لوگوں کو شہید کیا ہے لیکن ہم اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور ہم فلسطین کی آزادی کی جنگ لڑ رہےہیں۔ انہوںنے ایران کی بہادری اور جرات مندانہ موقف کی حمایت کی اور کہا کہ واحد ایران ہے جس نے ہمیشہ فلسطین کاز کی عملی مدد کی ہے۔ آج ایران کو فلسطین کی حمایت کے جرم میں جنگ کی صورت میں سزا دی جا رہی ہے۔
لندن سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے عالمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر مسعود شجرہ کا کہنا تھا کہ فلسطین ، لبنان اور ایران میں انسانی حقوق کی پامالی میں امریکہ اور اسرائیل براہ راست ملوث ہیں لیکن دنیا میں کوئی ایسا نظام موجود نہیں ہے جو انسانی حقوق کے ان مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے گریسن والکر کا کہنا تھا کہ امریکی عوام امریکی حکومت کی پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں، امریکہ میں عوام جنگ نہین چاہتے بلکہ یہ ایک مخصوص ٹولہ ہے جو دنیا بھر میںجنگوں کے ذریعہ بدامنی پھیلا کر امریکہ کو سیاسی و اخلاقی زوال کے ساتھ ساتھ فوجی زوال کا شکار کر رہاہے۔ انہوںنے کہا کہ امریکی عوام کی تمام تر ہمدردیاں ایران اور فلسطین سمیت لبنان کے مظلوم کے عوام کے ساتھ ہیں۔
یمن سے تعلق رکھنے والے برکس فورم کے نمائندے احمد عبدالرحمان نے کہاکہ یمن نے ہمیشہ فلسطین کا ساتھ دیا ہے۔ یمن آج بھی ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہے اور یمن کے عوام اور حکومت ایران اور فلسطین و لبنان کے ساتھ ہیں۔ انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے اقصیٰ گروپ کے چیئر مین نے فلسطین، لبنان اور ایران میں امریکی و اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی ۔ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی رہنما فیروز مٹھی بور والا کاکہنا تھا کہ دنیا کو متحد ہونا پڑے گا اور امریکہ و اسرائیل سمیت مغربی قوتوں کے جارحانہ عزائم کو روکنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اقبال حسن نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ دنیا میں عالمی قوانین نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن دوسری طرف بین الاقوامی قانون کو حرکت میں لانا ہو گا تا کہ امریکہ کو خطے کا امن تباہ نہ کرنے دیا جائے۔

والسلام۔۔علی احمر۔۔انچارج میڈیا۔ سیل۔۔0334-3206768

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan