غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے لبنان میں اسلامی مزاحمت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض صہیونی عقوبت خانوں کی تاریکیوں میں قید فلسطینی اور عرب اسیران کی رہائی کے لیے صیہونی فوجیوں کو جنگی قیدی بنانے کی کوششیں تیز کریں، خاص طور پر اسیران کو سزائے موت دینے کے قانون کی منظوری کے بعد یہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
ابو عبیدہ نے منگل کے روز ٹیلی گرام پر اپنے اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہاکہ لبنان میں اسلامی مزاحمت کے ان بہادروں کے ہاتھوں کو سلام جو صیہونی دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا رہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال گذشتہ کل کا خصوصی آپریشن ہے، ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صیہونی فوجیوں کو قیدی بنانے کی کوششوں میں تیزی لائیں تاکہ قابض اسرائیل کی جیلوں سے اپنے بھائیوں کو چھڑا سکیں، کیونکہ اب دشمن نے اسیران کی سزائے موت کا ظالمانہ قانون بھی منظور کر لیا ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ صیہونیوں کے خلاف ہماری قوم کی جہادی جدوجہد نے ثابت کر دیا ہے کہ اسیران کی آزادی کا مختصر ترین راستہ صرف مزاحمت ہے، انہوں نے متنبہ کیا کہ غزہ نے اس مقصد کے حصول کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے حزب اللہ کے جری جوانوں کو اس مشن کو مکمل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا اللہ کی ذات پر کامل یقین ہے کہ وہ ہمارے حریت پسند اسیران کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور ان کی اس آزمائش سے نکلنے کی کوئی راہ اور آسانی ضرور پیدا فرمائے گا۔
ترجمان القسام بریگیڈز نے اس بات پر زور دیا کہ یہ صیہونی ہٹ دھرمی جس کا تازہ ترین باب اسیران کی سزائے موت کا قانون، مسجد اقصی کی بندش کا جرم اور ہماری عرب و اسلامی اقوام پر جارحیت ہے، اب ہماری امت کے تمام طبقات اور دنیا کے حریت پسندوں پر یہ فرض عائد کرتی ہے کہ وہ قابض اسرائیل کو اس کے جرائم کی سزا دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں، یا کم از کم اس پر اتنا دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی سرکشی سے باز آ جائے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز پیر کو کنیسٹ نے ایک متنازعہ قانون کے مسودے کی منظوری دی ہے جس میں فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت سزائے موت کا حکم پانے والے کو قابض اسرائیل کی جیل انتظامیہ کے مقرر کردہ محافظوں کے ذریعے پھانسی دی جائے گی، جبکہ عمل درآمد کرنے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی اور انہیں قانونی تحفظ (حصانہ) بھی حاصل ہوگا۔
یہ قانون استغاثہ (پراسیکیوشن) کی درخواست کے بغیر بھی سزائے موت سنانے کی اجازت دیتا ہے، نیز فیصلے کے لیے ججز کے اتفاق رائے کی بھی ضرورت نہیں بلکہ محض سادہ اکثریت سے یہ فیصلہ کیا جا سکے گا۔
اس قانون کا اطلاق ان فوجی عدالتوں پر بھی ہوگا جو مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے مقدمات سنتی ہیں، جبکہ وزیر دفاع کو عدالت کے سامنے اپنی رائے پیش کرنے کا حق بھی دیا گیا ہے۔
قابض اسرائیلی جیلوں میں اس وقت 9500 سے زائد فلسطینی قید ہیں جن میں 350 بچے اور 73 خواتین شامل ہیں۔ فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اسیران بدترین تشدد، فاقہ کشی اور طبی غفلت کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں اب تک درجنوں اسیران جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔
