تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکہ او ر اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے ایک ایسی تاریخی غلطی کا ارتکاب کر دیا ہے جس کے بعد اب پوری دنیا کی معیشت اور امنیت کو امریکی اقدامات سے خطرات لا حق ہو گئے ہیں۔ایران کے لیے یہ جنگ اپنے آغاز سے بہت پہلے ہی ایک وجودی جنگ تھی۔ جبکہ مخالف فریق یعنی امریکہ و اسرائیل اور ان کےاتحادیوں کے لئے یہ واضح طور پر ایک اختیاری جنگ تھی۔جنگ کے ایک ماہ بعد، ایران واضح طور پر اس پر ہونے والے حملے سے بچ نکلا ہے، لیکن غاصب اسرائیلی ریاست کا وجود، اس کی علاقائی سپر پاور کی حیثیت، امریکہ کی عالمی بالادستی، اور پیٹرو ڈالر کا مستقبل یہ سب شدید شکوک و شبہات اور غیر یقینی صورتحال میں گھر چکے ہیں۔خاص طور پر ایران کی دفاعی حکمت عملی نے امریکہ اور اسرائیل کے تمام تر حساب کتاب ناکام کر دئیے ہیں۔اگر جنگ کے تصور میں کوئی فکری کشش ہے تو وہ اس کے ساتھ جڑی غیر یقینی کیفیت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جنگ کیسے شروع ہوتی ہے، لیکن یہ کبھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیسے ختم ہوگی۔امریکہ اور اسرائیل کے اپنے مقاصد تھے، مگر وہ واضح طور پر ان میں سے کوئی بھی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ بلکہ اس کے برعکس، ایران اب پہلے سے زیادہ مضبوط، متحد اور پرعزم نظر آتا ہے۔اس کے باوجود، شاید ہی کوئی ریاست ایسی ہو جس سے اسرائیل جتنی نفرت کی جاتی ہو۔ اور شاید ہی کوئی عالمی رہنما ایسے ہوں جنہیں امریکی قیادت اور اس کے اتحادیوں جتنا ناپسند کیا جاتا ہو۔اس ساری صورتحال میں جو چیز سب سے اہم ہے وہ ایران کی دفاعی حکمت عملی ہے کیونکہ ایران اپنے وجود کی بقاء اور تحفظ کی جنگ لڑ رہاہے۔
خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال نے ایک بار پھر عالمی سیاست اور معیشت کو غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے۔ خطے میں جاری جنگی ماحول کے باعث دو اہم سمندری راستوں یعنی آبنائے ہرمز کے بعد اب باب المندب کی بندش کا خطرہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر یہ دونوں عالمی بحری گزرگاہیں بیک وقت بند ہو جائیں تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس سے نکلنے والا تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل کی سپلائی اسی آبنائے کے ذریعے گزرتی ہے۔ اس راستے سے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل مختلف ممالک کو منتقل کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی شہ رگ بھی کہا جاتا ہے۔ ماضی میں کئی ایک سیاسی رہنمائوںنے امریکہ کے ایران پر ممکنہ حملوں کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ اس طرح کی جنگ میں وہی فاتح ہو گا جس کے پاس آبنائے ہرمز کا کنٹرول ہو گا۔ آج ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی میں آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس کےبعد خطے میں معاشی بحران نے امریکہ کے اتحادیوں کو گھیر لیا ہے۔
اب اس جنگ میں دوسرا دفاعی آپشن جس پر غور کیا جا رہاہے وہ باب المندب ہے ۔ یعنی بحیرہ احمر میں اگر تجارت کو روک دیا جائے تو پھر آدھی دنیا کی معیشت خطرے میں پڑ ستی ہے۔باب المندب عالمی تجارت کے لئے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان بحری تجارت کا ایک بنیادی راستہ ہے۔
عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً دس سے بارہ فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں تجارتی جہاز ہر سال اس آبنائے سے گزرتے ہیں جو ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی ترسیل کرتے ہیں۔اگرآبنائے ہرمز کے بعد اب یہ دوسری آبنائے باب المندب بھی بیک وقت بند ہو جائے تو دنیا کی تقریباً تیس سے چالیس فیصد تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگے گا اور بین الاقوامی تجارت میں بڑی رکاوٹ پیدا ہو جائے گی۔
اسی طرح شپنگ کمپنیوں کو مجبوراً افریقہ کے جنوبی سرے یعنی کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑے گا، جس سے نہ صرف وقت میں اضافہ ہو
گا بلکہ تجارتی اخراجات بھی کئی گنا بڑھ جائیں گے۔یعنی ایک اندازے کے مطابق ایک بحری جہاز کو دس سے پندرہ روز کا لمبا چکر لگانا پڑے گا۔
اس صورتحال کا سب سے فوری اثر عالمی توانائی کی قیمتوں پر پڑے گا۔ ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ آبنائے باب المندب بھی بند ہوتی ہے تو تیل کی قیمتیں سو سے ڈیڑھ سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ جبکہ کچھ ماہرین کے مطابق تیل کی قیمت دو سو ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہے۔
اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو گا۔توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر عالمی معیشت پر پڑے گا۔ صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی، اشیائے ضروریہ مہنگی ہو جائیں گی اور عالمی مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک خصوصاً پاکستان جیسے ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ ان کی معیشت بڑی حد تک درآمدی توانائی پر انحصار کرتی ہے۔
اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اس حد تک بڑھتی ہیں تو پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی غیر معمولی سطح تک پہنچ سکتی ہیں، جس کا اثر عام شہری کی زندگی پر براہِ راست پڑے گا۔موجودہ حالات میں یہ خدشہ اس لئے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی صرف علاقائی مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت اور عالمی امن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
اگر عالمی طاقتیں اس صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیں تو یہ بحران ایک بڑے اقتصادی طوفان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے کے لئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔ کیونکہ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم سمندری راستے متاثر ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کے نتائج بھگتنے پر مجبور ہو جائے گی۔
حال ہی میں یمن کی مسلح افواج کے تازہ بیان نے عالمی منظر نامہ پر ایک نیا نقشہ تعمیر کر دیا ہے کہ جس میں یمن کی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ و اسرائیل کے جہازوں کو باب المندب سے گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ یعنی اب امریکی معیشت کو ایک بڑا دھچکا لگنے جا رہاہے۔ ساتھ ساتھ یمن کی مسلح افواج نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اگر کسی عرب ملک کی حکومت نے ایران کے خلاف کوئی حملہ کیا تو پھر یمن ان حملوں کا بھرپور جواب دے گا اور کوئی بھی عرب ملک یمن کی کاروائی سے محفوظ نہیں رہے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ کے پاس اب کوئی آپشن باقی نہیں رہاہے ہے کیونکہ امریکی ایک ایسی دلدل میں پھنس چکا ہے کہ جہاں سے اسے کوئی نہیں نکال سکتا ہے۔ امریکی معیشت دن بہ دن گرتی چلی جا رہی ہے اور ٹرمپ اسے اپنے بیانات اور جھوٹے پراپیگنڈا سے منظم کرنے کی ناکام کوشش کر رہاہے۔اب امریکی حکومت کے سامنے ایک ہی راستہ باقی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس جنگ میں ہتھیار ڈال دیں اور شکست کو تسلیم کریں اور ایران کے مطالبات کو تسلیم کریں اور یہاں سے خطے سےنکل جائیں۔