غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج گذشتہ 173 دنوں سے مسلسل غزہ کی پٹی میں سیز فائر اور جنگ بندی کے معاہدے کی دھجیاں اڑا رہی ہیں۔ یہ خلاف ورزیاں توپ خانے کی گولہ باری، فضائی حملوں اور فوجی گاڑیوں سمیت بحری جنگی جہازوں سے فائرنگ کی صورت میں جاری ہیں، جبکہ اسی دوران پٹی کے مختلف علاقوں میں شہری عمارتوں اور تنصیبات کو دھماکوں سے اڑانے اور مسمار کرنے کا سلسلہ بھی تھم نہ سکا ہے۔
منگل کے روز طلوع فجر کے وقت شمالی غزہ کی پٹی میں واقع جبالیا کیمپ کے مغرب میں الفالوجا کے علاقے میں ’اتصالات چوک‘ پر قابض اسرائیل کے ایک جنگی ڈرون طیارے نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
ادھر وسطی غزہ کی پٹی میں واقع البریج مہاجر کیمپ کے شمال مشرقی علاقوں کو قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں کی جانب سے شدید فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
جنوبی غزہ کی پٹی میں شہر خان یونس کے جنوبی علاقوں میں قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں کی فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ اسی دوران خان یونس کے کھلے سمندر میں قابض اسرائیل کے جنگی بحری جہازوں نے بھی شدید گولہ باری اور فائرنگ کی۔
غاصب دشمن نے غزہ کی پٹی میں 20 لاکھ سے زائد انسانوں پر اپنا ظالمانہ محاصرہ بدستور مسلط کر رکھا ہے، جہاں تمام گزرگاہیں بند کر دی گئی ہیں اور فوجی اقدامات میں سختی لاتے ہوئے طبی و انسانی امداد کی فراہمی کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 11 اکتوبر سنہ 2025 ء کو سیز فائر کے نفاذ سے لے کر اب تک قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 704 ہو چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1914 تک جا پہنچی ہے۔
مجموعی طور پرسات اکتوبر سنہ 2023 ءاکتوبر کو شروع ہونے والی اس وحشیانہ جارحیت اور نسل کشی کے آغاز سے اب تک شہداء کی کل تعداد 72,280 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 172,014 ریکارڈ کی گئی ہے۔
