غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی نام نہاد پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے نام نہاد ’فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کے قانون‘ کی حتمی منظوری دشمن کی خونی فطرت ، اس کے قتل و غارت گری اور دہشت گردی پر مبنی طریقہ کار کی عکاس ہے، نیز یہ اقدام مہذب ہونے اور انسانی اقدار کی پاسداری کے حوالے سے اس کے بارہا کیے جانے والے جھوٹے دعووں کی قلعی کھولتا ہے۔
یہ فاشسٹ ’قانون‘ خون کی پیاسی مجرمانہ گینگ کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے اور ایک ایسا خطرناک ریکارڈ قائم کرتا ہے جس سے قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر ہمارے ہیرو اسیران کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
یہ فیصلہ ایک بار پھر اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ غاصب دشمن اور اس کے قائدین بین الاقوامی قانون کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور تمام انسانی اقدار و بین الاقوامی معاہدوں کو پس پشت ڈال چکے ہیں۔
ہم عالمی برادری، دنیا بھر کے حریت پسندوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور خاص طور پر اقوام متحدہ اور ریڈ کراس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس مجرمانہ سرکشی کو روکنے اور ہمارے اسیران کو قابض اسرائیل کے جبر سے بچانے کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئیں۔
ہم اپنے تمام عوام، اندرون و بیرون ملک بسنے والے فلسطینیوں، تمام دھڑوں اور قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے بہادر اسیران کی حمایت کے لیے سیاسی، قانونی اور میڈیا سمیت تمام میدانوں اور محاذوں پر متحرک ہو جائیں۔
صہیونی دشمن اور اس کے مجرم قائدین کو اپنی ان فاشسٹ پالیسیوں کے نتائج بھگتنا ہوں گے جن کا جواب اس جرم کی سنگینی کے برابر دیا جائے گا۔
