Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

صہیونی جارحیت کا ہدف صحافت، غزہ سے لبنان تک صحافیوں پر حملے

بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقتلِ عشق میں سچائی کی گواہی دینے والے اب محض واقعات کے راوی نہیں رہے بلکہ وہ خود ایک ایسی داستان بن چکے ہیں جسے دشمن اپنی خونی توپوں سے مٹانے پر تلا ہوا ہے۔ غزہ کی پٹی سے لے کر جنوبی لبنان کی وادیوں تک قابض اسرائیل کی سفاکیت نے ایک ایسا لرزہ خیز جال بچھا دیا ہے جس کا مقصد ان جذبوں کو خاموش کرنا ہے جو میدانِ کارزار سے حقِ صداقت بلند کرتے ہیں۔ جب جغرافیائی سرحدیں لہو میں ڈوب کر ایک ہو جائیں اور کرب کی داستانیں ہم آہنگ ہو جائیں تو پیچھے صرف عالمی بے حسی اور تحفظ کا فقدان رہ جاتا ہے۔ ایک ایسی لرزہ خیز حقیقت جہاں کیمرہ تھامنا اور قلم اٹھانا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے، جہاں ہر صحافی کی صبح اس خدشے کے ساتھ ہوتی ہے کہ شاید شام کو وہ خود کسی لرزہ خیز خبر کا عنوان بن جائے۔

آج عرب میڈیا کا ایوان اس وقت ماتم کدہ بن گیا جب جنوبی لبنان کی خاک پر اپنی پیشہ ورانہ عبادت میں مصروف تین جری صحافی قابض اسرائیل کی براہ راست وحشت کا شکار ہو کر خاک و خون میں تڑپ اٹھے۔ لبنانی نامہ نگاروں کے مطابق ان شہداء میں المیادین چینل کی بلند آہنگ صدا فاطمہ فتونی، ان کے رفیقِ سفر بھائی اور فوٹو جرنلسٹ محمد فتونی اور المنار چینل کی پہچان علی شعیب شامل ہیں۔ یہ نفوسِ قدسیہ سرحد پر جاری جبر و استبداد کی کوریج کر رہے تھے کہ غاصب صہیونی دشمن کی سفاکیت نے ان کے وجود کو نشانہ بنا کر صحافتی تاریخ میں ایک اور خونی باب کا اضافہ کر دیا۔ یہ سانحہ ان ہولناک خطرات کا نوحہ ہے جو قابض اسرائیل کے سائے میں سچ کی ترویج کرنے والوں کو درپیش ہیں۔

منظر بھی وہی قاتل بھی وہی

یہ دلدوز واقعہ غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کی اس ہولناک جنگ کی یاد دلاتا ہے جہاں حقائق کی حرمت پر پہرہ دیتے ہوئے میڈیا کے مجاہدین کی ایک کثیر تعداد کو بے دردی سے مقتل میں اتار دیا گیا۔ ان فرزندانِ صحافت کو براہ راست ہدف بنانا اور عالمی اداروں کا انہیں تحفظ فراہم نہ کرنا انسانیت کے ماتھے پر ایک ایسا بدنما داغ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے اعداد و شمار کلیجہ چیر دینے والے ہیں؛ سنہ 2023 اکتوبر سے جاری اس بربریت میں اب تک شہید ہونے والے صحافیوں کی کل تعداد 261 تک جا پہنچی ہے۔ رواں ماہ سنہ 2026 مارچ میں صحافیہ آمال شمالی کی شہادت نے اس فہرست کو مزید طویل کر دیا ہے، جو جدید تاریخ کا وہ سیاہ ترین دور ہے جہاں حق کی آواز کو دبانے کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر خون بہایا گیا۔

آج جنوبی لبنان کی سرحدوں پر وہی خونی منظرنامہ دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے، جہاں صحافی اپنی متاعِ جاں ہتھیلی پر رکھ کر سچائی کی مشعلیں روشن کر رہے تھے، مگر وہ اسی ظالم کے ہاتھوں خاک نشین ہوئے جس نے غزہ میں ان کے ہم پیشہ ساتھیوں کا قتل عام کیا تھا۔ یہ قابض اسرائیلی فوج کی اسی مجرمانہ جبلت کا عکاس ہے جو سچائی کے نور کو اندھیروں میں بدلنے کے لیے کسی بھی حد تک گر سکتی ہے۔ شواہد پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ یہ حملہ اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی، جو اس زہریلے ماحول کی غمازی کرتی ہے جہاں سچ بولنا سب سے بڑا جرم قرار پایا ہے۔ غزہ کے وہ زخم ابھی تک تازہ ہیں جہاں صحافی محض شاہد نہیں بلکہ اس المیے کا زخمی حصہ بن چکے تھے۔ وہاں میڈیا ہاؤسز کو ملبے کا ڈھیر بنایا گیا، صحافیوں کے معصوم خاندانوں کو چن چن کر لہو میں نہلایا گیا اور پریس کی جیکٹ زیب تن ہونے کے باوجود ان پر بارود کی بارش کی گئی۔ آج لبنان کی زمین پر بھی اسی دردناک المیے کی بازگشت سنی جا رہی ہے۔

قابض اسرائیلی ذہنیت کا عکاس جرم

اپنے ساتھیوں کی جدائی پر دل گرفتہ ایک لبنانی صحافی نے کہا کہ ہم یہ گمان کرتے تھے کہ غزہ کی زمین پر ڈھائی جانے والی قیامت اپنی سنگینی میں بے مثال ہے، مگر آج کے لہو رنگ واقعے نے مہر ثبت کر دی ہے کہ اس خطے میں موت ہر اس شخص کا تعاقب کر رہی ہے جس کے ہاتھ میں قلم یا کیمرہ ہے۔ جنوبی لبنان کے ایک اور صحافی نے گلوگیر لہجے میں کہا کہ ہم جب گھروں سے نکلتے ہیں تو یہ جان کر نکلتے ہیں کہ شاید واپسی اب خواب بن چکی ہے۔ اب نہ کوئی جائے پناہ ہے اور نہ ہی ہمارے تحفظ کا کوئی ضامن۔ یہ رقت آمیز گواہیاں اس انسانی المیے کا منہ بولتا ثبوت ہیں جہاں قلم اور کیمرہ ہر پل زندگی اور موت کی کشمکش میں گھرے ہوئے ہیں۔

لبنانی صدر جنرل جوزف عون نے جزیین کے راستے پر علی شعیب، فاطمہ فتونی اور ان کے بھائی محمد فتونی پر ہونے والے حملے کی کڑی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر قابض اسرائیل نے بین الاقوامی ضابطوں، انسانی حقوق کے چارٹر اور جنگی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ان نہتے مدنی صحافیوں کو نشانہ بنایا ہے جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ذریعے دنیا کو حقیقت دکھا رہے تھے۔ جوزف عون نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسا سفاکانہ جرم ہے جو ان تمام بین الاقوامی میثاقوں کی نفی ہے جن کے سائے میں جنگوں کے دوران صحافیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا لازم ہے۔ سنہ 1949 کے جنیوا کنونشنز اور سنہ 1977 کے پروٹوکولز کی دفعات صریحا پکارتی ہیں کہ صحافی جب تک براہ راست جنگ کا حصہ نہ بنیں، انہیں نقصان پہنچانا عالمی جرم ہے۔

فلسطین اور لبنان میں صحافت لہو رنگ

لبنانی پریس سنڈیکیٹ نے اپنے لرزہ خیز بیان میں کہا کہ ان رفقاء کی شہادت ہر پیمانے پر ایک ایسی مجرمانہ حرکت ہے جو لبنان اور اس کے باسیوں کے خلاف غاصب صہیونی ریاست کی اس مٹانے والی جبلت کو بے نقاب کرتی ہے جو سچائی کی ہر دستاویز کو جلا دینا چاہتی ہے۔ سنڈیکیٹ نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ قابض حکام تمام انسانی اقدار اور عالمی پروٹوکولز کو پاؤں تلے روند رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ قابض اسرائیل نے ان معصوموں کو نشانہ بنایا ہے جن کی طاقت صرف ان کا قلم، ان کا کیمرہ اور ان کی آواز ہوتی ہے۔ پریس سنڈیکیٹ نے اس اجتماعی قتل عام کا مقدمہ اقوام متحدہ، ریڈ کراس، یونیسکو اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے سامنے پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غاصب صہیونی ریاست کے ان جرائم پر سخت ترین کارروائی کی جائے۔

فلسطینی میڈیا فورم نے اس لرزہ خیز واردات پر تڑپتے ہوئے کہا کہ ان تینوں صحافیوں کا خون دراصل اسی سلسلے کی کڑی ہے جو میڈیا کے وقار کو پامال کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ یہ عالمی قوانین کے سینے میں ایک اور خونی خنجر ہے۔ فورم نے واضح کیا کہ اس منظم دہشت گردی کا واحد مقصد حق کی آواز کا گلا گھونٹنا ہے۔ قابض اسرائیل غزہ کی پٹی والی وہی خونی پالیسی دہرا رہا ہے جہاں میڈیا ٹیموں کا قتلِ عام ایک معمول بن چکا ہے۔ فورم نے مطالبہ کیا کہ قابض اسرائیل کو عالمی کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور اس سفاکیت کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے لبنانی بھائیوں سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ان شہداء کا لہو ان مظالم کے خلاف ایسی گواہی بنے گا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔

فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اس سانحے کو ایک ہولناک مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صحافیوں کو نشانہ بنانے کی اس دیرینہ صہیونی پالیسی کا حصہ ہے جو سچ کو دفن کر دینا چاہتی ہے۔ حماس نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ قابض اسرائیلی فوج کا اس وحشیانہ کارروائی کو علی الاعلان اپنانا بین الاقوامی برادری کے منہ پر طمانچہ ہے، جو امریکی سرپرستی میں سزا کے خوف سے مکمل آزاد ہے۔ تحریک نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اب محض مذمت پر اکتفا نہ کریں بلکہ اس نسل کش ریاست پر ایسی پابندیاں لگائیں کہ وہ دوبارہ کسی قلم کار کا لہو بہانے کی جرات نہ کر سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan