خان یونس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ 171 ویں روز بھی جاری ہے۔ یہ مجرمانہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں پر سخت ترین محاصرہ مسلط ہے، تمام گزرگاہیں بند ہیں اور طبی و انسانی امداد کی فراہمی پر سنگین پابندیاں عائد ہیں۔
اتوار کی علی الصبح قابض اسرائیل نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں فلسطینی پولیس کی دو چوکیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 9 فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے جب کہ متعدد زخمی ہوئےہیں۔ یہ حملہ صیہونی دشمن کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کو پیروں تلے روندنے کی ایک اور واضح مثال ہے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے پولیس کی دو چیک پوسٹوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں ڈیوٹی پر موجود پولیس کے تین اہلکار اور وہاں موجود تین پناہ گزین شہید ہو گئے۔ شہداء میں ایک نوجوان لڑکی بھی شامل ہے جبکہ حملے میں چار دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
محکمہ شہری دفاع کے مطابق اس وحشیانہ حملے کے شہداء کے نام یہ ہیں: رافت خمیس علوہ ابو ماشی، محمد کمال مصلح شیخ العید، شکری سرحان احمد الصوفی، اشرف الرمیلات، سامر ہلال یوسف الفسیس اور عبد الرحمن عونی السید عبد المحسن۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 11 اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے آغاز سے اب تک صیہونی سفاکیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 692 ہو چکی ہے، جبکہ 1895 افراد زخمی ہوئے اور 756 لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔
دوسری جانب سات اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہونے والی اس بدترین نسل کشی کی مجموعی ہولناک صورتحال یہ ہے کہ اب تک شہداء کی کل تعداد 72,568 تک جا پہنچی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 171,995 ہو گئی ہے۔
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ بتایا ہے کہ سیز فائر کے نفاذ سے لے کر 18 مارچ سنہ 2026ء تک قابض اسرائیل 2,073 مرتبہ معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے جن میں اکثریت بے گھر پناہ گزینوں کی ہے۔
میدانی صورتحال کے مطابق اتوار کی صبح بھی غزہ کی پٹی کے مشرقی علاقوں پر اسرائیلی ٹینکوں نے گولہ باری اور فائرنگ کی جس سے پناہ گزینوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ صیہونی فوج نے کھلے میدانوں، رہائشی علاقوں کے مضافات اور پناہ گزین کیمپوں کے گردونواح کو نشانہ بنایا جس کے بعد شہری دفاع کا عملہ ہائی الرٹ ہو گیا۔
اسی تسلسل میں قابض اسرائیل کی جنگی کشتیوں نے خان یونس کے سمندر میں ساحل کے قریب شدید فائرنگ کی جس سے ماہی گیروں اور ساحل پر مقیم پناہ گزینوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
علاوہ ازیں وسطی غزہ میں واقع البريج کیمپ کے مشرقی حصوں پر اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹروں نے اندھا دھند فائرنگ کی اور رہائشی علاقوں کے قریبی مقامات کو نشانہ بنایا۔ کشیدہ صورتحال کے باعث تاحال نقصانات کی حتمی تفصیلات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
