مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکولرز (اتحاد عالمی لعلماء المسلمین) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو نمازیوں کے لیے کھولنا ایک شرعی اور انسانی فریضہ ہے۔ اتحاد نے مسجد کی بندش یا وہاں تک رسائی پر پابندیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس صورتحال کو ایک ایسی خطرناک مثال قرار دیا ہے جس کی گذشتہ کئی دہائیوں میں کوئی نظیر نہیں ملتی اور یہ امت مسلمہ کی جانب سے سنجیدہ موقف اختیار کرنے کا متقاضی ہے۔
اتحاد نے اپنے ایک بیان میں اسلامی ممالک سے فوری طور پر متحرک ہونے کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش وہاں صہیونی ریاست کو اپنی خود مختاری مسلط کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس سے مسجد کی اسلامی شناخت کو خطرہ لاحق ہے اور اس کی موجودہ حیثیت تبدیل کی جا رہی ہے۔
بیان میں امت مسلمہ کے عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان اقدامات کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے اور اپنے مذہبی حقوق سے وابستگی کا اظہار کرنے کے لیے پرامن مظاہروں اور دھرنوں کا اہتمام کریں۔
علماءنے خطباء سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جمعہ کے خطبات کو المسجد الاقصیٰ کے لیے وقف کریں، اس کے مقام و مرتبے کو بیان کریں اور ان اقدامات کی سنگینی کو اجاگر کریں جن کا اسے سامنا ہے۔
علاوہ ازیں بیان میں اسلامی ممالک کے سربراہان کو فوری اور سرکاری مراسلے بھیجنے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ انہیں ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات اور ہنگامی اسلامی کانفرنس بلانے پر زور دیا جا سکے۔
اتحاد نے اس ضرورت پر بھی زور دیا کہ عالم اسلام کے دارالافتاء اور وزارت ہائے اوقاف امت کی آگاہی اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے فیصلہ سازوں پر جائز دباؤ ڈالنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
یہ مطالبات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب قابض اسرائیل کی افواج نے مسلسل 28 ویں دن بھی مسجد اقصیٰ کو بند کر رکھا ہے اور نمازیوں کو وہاں پہنچنے سے روکا جا رہا ہے۔ سنہ 1967 کے بعد سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا غیر معمولی قدم ہے، جس کے باعث القدس کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کیے جانے کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
