Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

ملادی نوف کا منصوبہ مسترد، حماس کا سخت ردعمل

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے سابق اقوام متحدہ کے مندوب نکولے ملادی نوف کی جانب سے پیش کردہ ان تجاویز کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جن میں غزہ کی پٹی میں مزاحمت کے اسلحہ کو انتظامی اور سکیورٹی انتظامات سے جوڑنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔ ان تجاویز میں قابض اسرائیل کے انخلا اور تعمیرِ نو کے بدلے ایک بین الاقوامی کمیٹی اور عالمی افواج کی تعیناتی شامل ہے۔

باسم نعیم نے اپنے صحافتی بیانات میں اس بات پر زور دیا کہ یہ تجاویز شرم الشیخ معاہدے اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2028 سے متصادم ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی بھی خلاف ورزی ہیں۔

باسم نعیم نے اقوام متحدہ کے سابق مندوب پر الزام عائد کیا کہ وہ معاہدے کا رخ موڑ کر اسے قابض اسرائیل کے ایجنڈے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملادی نوف نے دانستہ طور پر اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ قابض اسرائیل نے پہلے مرحلے پر عمل درآمد نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل کے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی حقیقی ضمانتیں موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نکولے ملادی نوف ایک ایسا بیانیہ اپنائے ہوئے ہیں جو دوبارہ جنگ چھڑنے کی دھمکی دیتا ہے اور وہ ایک غیر جانبدار کردار ادا کرنے کے بجائے قابض اسرائیل کی حکومت کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ملادی نوف پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے چشم پوشی کرنے کا الزام بھی لگایا۔

باسم نعیم نے اشارہ کیا کہ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک 750 سے زائد فلسطینی شہید اور تقریباً 1800 زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ تعمیراتی مواد کی آمد میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اور رفح گزرگاہ مسلسل بند ہے جبکہ یلو لائن میں فلسطینیوں کے مفادات کے خلاف تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ تجاویز فلسطینی عوام کے حقوق کی قیمت پر پیش کی گئی ہیں اور یہ صرف امریکہ اور قابض اسرائیل کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

اسی تناظر میں ایک حالیہ دستاویز نے نکولے ملادی نوف کے اس منصوبے کی تفصیلات بے نقاب کی ہیں جس کا مقصد غزہ کی پٹی کو اسلحہ سے پاک کرنا ہے۔ اس منصوبے سے فریقین کے درمیان ذمہ داریوں کا عدم توازن واضح ہوتا ہے جس میں مزاحمت پر تو بنیادی شرائط تھوپی گئی ہیں لیکن اس کے بدلے قابض اسرائیل کے اقدامات کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔

دستاویز کے مطابق یہ منصوبہ سکیورٹی اور انسانی ہمدردی کے راستوں کو قدم بہ قدم کے اصول کے تحت باہم جوڑتا ہے، جہاں اسلحہ سے دستبرداری میں پیش رفت کو تعمیرِ نو اور محاصرے میں نرمی جیسی بنیادی انسانی ضروریات سے مشروط کیا گیا ہے۔

اس منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ تعمیراتی مواد صرف ان علاقوں میں لایا جائے گا جن کے اسلحہ سے پاک ہونے کی تصدیق ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ ایک ریاست اور ایک اسلحہ کے فارمولے کے تحت ایک ایسی حکمرانی کی تجویز دی گئی ہے جس میں غزہ کی پٹی کا انتظام ایک عبوری مرحلے کے دوران قومی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔

ان نکات نے سکیورٹی کی تصدیق کے طریقہ کار اور مجوزہ بین الاقوامی کردار کی حدود پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کیا یہ انتظامات غزہ کے اندرونی معاملات میں بڑے پیمانے پر مداخلت کا پیش خیمہ تو نہیں بنیں گے۔

یہ تمام تر تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب سنہ 2023ء میں 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی غزہ کی پٹی پر مسلط جنگ اور قابض اسرائیل کی سفاکیت تاحال جاری ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ 44 ہزار سے زائد فلسطینی شہید و زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 11 ہزار سے زائد لاپتہ ہیں اور لاکھوں فلسطینی ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔ غزہ کا بیشتر حصہ اب وسیع پیمانے پر ہونے والی اس تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan