Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

عالمی ثالثوں کی جانب سے غزہ میں مزاحمتی گروہوں کے لیے قدم بہ قدم منصوبہ

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) خصوصی ذرائع نے غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے المناک پس منظر میں فلسطینی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے ایک مکمل اور کثیر المراحل منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔ یہ منصوبہ اقوام متحدہ کے سابق مندوب نکولے ملادی نوف نے پیش کیا ہے جو قابض اسرائیل کے اقدامات اور اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی ذمہ داریوں کے درمیان ’قدم بہ قدم‘ کے اصول پر مبنی ایک تدریجی طریقہ کار پر استوار ہے۔

دستاویز کے مطابق فلسطینیوں کے نصب العین کو متاثر کرنے والے اس منصوبے میں غیر مسلح کرنے کی تجویز کو کسی الگ تھلگ اقدام کے طور پر نہیں بلکہ ایک جامع سیاسی اور سکیورٹی فریم ورک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں ہر مرحلے کی پیش رفت کو دونوں فریقوں کی جانب سے بیک وقت عمل درآمد سے جوڑا گیا ہے تاکہ ذمہ داریوں کا توازن برقرار رہے اور کسی بھی مرحلے کی مکمل تکمیل کے بغیر اگلے مرحلے کی جانب پیش قدمی نہ کی جائے۔

یہ منصوبہ کئی بنیادی اصولوں پر مبنی ہے جن میں سب سے اہم مرحلہ اول کے انتظامات کو مکمل کرنا اور ان علاقوں میں تعمیراتی مواد کی فراہمی کی اجازت دینا ہے جن کے اسلحہ سے پاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہو۔ اس کے علاوہ ’ایک اتھارٹی، ایک قانون اور ایک اسلحہ‘ کے فارمولے پر مبنی حکمرانی کا نظام اپنایا جائے گا جس کے تحت غزہ کی پٹی کا انتظام تدریجی طور پر ایک ایسی قومی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا جو عبوری مرحلے کے دوران انتظامی اور سکیورٹی اختیارات سنبھالے گی۔

اس کٹھن مسار کا آغاز ایک تمہیدی مرحلے سے ہوگا جس میں تمام فوجی کارروائیوں کی مکمل جنگ بندی شامل ہے جس کے ساتھ ہی قابض اسرائیل کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اقدامات کیے جائیں گے جبکہ اس کے بدلے میں حماس اپنے عسکری ونگ کی سرگرمیاں روکنے اور قومی کمیٹی کو غزہ کی پٹی کے اندر براہ راست کام شروع کرنے کے لیے بااختیار بنانے کا عہد کرے گی۔

دوسرا مرحلہ جو سولہویں دن سے شروع ہو کر ساٹھ دن تک جاری رہے گا اس منصوبے کا اصل اور کلیدی موڑ ثابت ہوگا۔ اس دوران غیر مسلح کرنے کے عمل کا عملی اطلاق شروع ہوگا جس میں ایک طرف قابض اسرائیل کی فوج مخصوص علاقوں سے پیچھے ہٹے گی اور امداد کی فراہمی کا دائرہ وسیع کیا جائے گا جبکہ دوسری جانب حماس بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں کی مکمل فہرست سازی کرنے، ان کے خفیہ مقامات کی تفصیلی معلومات فراہم کرنے، تمام عسکری سرگرمیاں معطل کرنے اور سکیورٹی منظر نامے سے دستبردار ہونے کی پابند ہوگی۔

اس مرحلے میں ہونے والی پیش رفت کی انتہائی باریک بینی سے نگرانی کی جائے گی کیونکہ اگلے مرحلے میں داخلے کے لیے تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد کی تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے جو اسے اس منصوبے کا سب سے حساس اور پیچیدہ حصہ بنا دیتا ہے۔

تیسرے مرحلے میں داخل ہوتے ہی قابض اسرائیل کی جانب سے فوجی انخلاء اور سہولیات کے دائرے کو مزید وسعت دی جائے گی جس کے بدلے میں بھاری ہتھیاروں کی فہرست سازی مکمل کی جائے گی اور قومی کمیٹی کی کڑی نگرانی میں انہیں تدریجی طور پر حوالے کرنے کا عمل شروع ہوگا جس کے ساتھ ساتھ مزید سکیورٹی اختیارات شہری اداروں کو منتقل کر دیے جائیں گے۔

جہاں تک چوتھے مرحلے کا تعلق ہے تو اس میں قابض اسرائیل کی مزید واپسی ہوگی اور اس کے بدلے تمام اقسام کے اسلحہ کی فہرست سازی مکمل کی جائے گی اور شہروں کے اندر سے کسی بھی منظم عسکری موجودگی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ یہ سلسلہ پانچویں مرحلے تک پہنچے گا جو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کے عمل کی تکمیل پر ختم ہوگا اور اسی دوران قابض اسرائیل کی افواج بیرونی خطوط تک تقریباً مکمل طور پر پیچھے ہٹ جائیں گی۔

منصوبے میں عمل درآمد کے دوران بین الاقوامی نگرانی کے تسلسل پر زور دیا گیا ہے جس میں ایک فلسطینی قومی کمیٹی اور زمینی تصدیق کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کا امکان بھی شامل ہے۔ یہ رجحان درحقیقت سکیورٹی کے معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے اور اسے غزہ کی پٹی کی دوبارہ تعمیر اور حکومتی ڈھانچے کی تشکیل نو کے عمل سے جوڑنے کی ایک کوشش ہے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے منصوبے دراصل غاصب صہیونی دشمن کی سفاکیت کے شکار فلسطینیوں کی عسکری قوت کو ختم کر کے غزہ کی پٹی کی سکیورٹی اور سیاسی حقیقت کو دشمن کے مفادات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش ہیں۔ اس تدریجی راستے کی کامیابی اب بھی کئی سوالات کی زد میں ہے خاص طور پر دوسرے مرحلے میں جہاں مزاحمت کو اپنے دفاع سے دستبردار ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan