تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) میدان جنگ میں جاری خونی معرکے کے متوازی اب سیاسی شرائط کا مقابلہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے جو اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ تہران کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ ایران کی جانب سے جنگ بندی کو ان علاقائی معاملات سے منسلک کیا جا رہا ہے جو براہ راست محاذ آرائی کی حدود سے باہر ہیں جن میں سب سے اہم لبنانی محاذ ہے جبکہ دوسری جانب قابض اسرائیل تمام محاذوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے اور طاقت کے موجودہ توازن سے ناجائز فائدہ اٹھانے پر بضد ہے۔
بدھ کے روز سامنے آنے والی معتبر میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے عالمی ثالثوں کو دوٹوک الفاظ میں مطلع کیا ہے کہ امریکہ اور قابض اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان کو شامل کرنا ناگزیر ہے۔ تہران نے کسی بھی تصفیے کے لیے یہ بنیادی شرط رکھی ہے کہ حزب اللہ پر غاصب صیہونی دشمن کے وحشیانہ حملوں کا فوری اور مکمل خاتمہ کیا جائے۔
اس کے برعکس قابض اسرائیل کے حکام نے میڈیا بریفنگ کے دوران واضح کیا ہے کہ تل ابیب ایران کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات میں لبنانی فائل کو شامل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ قابض دشمن نے لبنان میں اپنی سفاکیت اور جنگ جاری رکھنے کے مذموم عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ اس وقت کمزوری کا شکار ہے اور وہ اس نام نہاد موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تاکہ فلسطینیوں کے حامیوں کو کچلا جا سکے۔
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی نے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ ایک ایسا جامع معاہدہ چاہتا ہے جس کے نتیجے میں ایران اور خطے میں موجود تمام مزاحمتی گروہوں کے خلاف جاری جارحیت کا مکمل خاتمہ ہو۔ ادھر خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تہران گذشتہ ایک ماہ سے جاری علاقائی جنگ کو ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی ایک امریکی تجویز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے تاہم ابھی تک اس پر کوئی حتمی یا فیصلہ کن موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
چھ علاقائی ذرائع کے مطابق ایران نے سنہ 2026ء کے ماہ مارچ کے وسط سے ہی ثالثوں کو اپنے اس مطالبے سے آگاہ کر دیا تھا کہ وہ ایک ایسا جامع معاہدہ چاہتا ہے جس میں حزب اللہ پر قابض اسرائیل کے حملوں کی بندش لازمی ہو۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے اس حوالے سے کہا ہے کہ خطے اور لبنان میں نام نہاد استحکام کے لیے ایران کی پراکسی سرگرمیوں کا خاتمہ اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا بنیادی شرائط ہیں۔
ایک علاقائی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ حزب اللہ کو تہران کی جانب سے یہ مضبوط ضمانتیں دی گئی ہیں کہ اسے کسی بھی وسیع تر معاہدے کا لازمی حصہ بنایا جائے گا کیونکہ تہران اس وقت لبنانی فائل کو غیر معمولی اہمیت دے رہا ہے۔ ایران اس بار غاصب صیہونی دشمن کی ان مجرمانہ خلاف ورزیوں کی تکرار نہیں چاہتا جو سنہ 2024ء میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد دیکھنے میں آئی تھیں۔
یہ تزویراتی صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب سنہ 2024ء کی جنگ کے بعد لبنان کے اندر حزب اللہ کے اثر و رسوخ میں داخلی سطح پر کچھ دباؤ دیکھا جا رہا ہے اور لبنانی حکومت کی جانب سے اسے نہتا کرنے اور اس کی عسکری سرگرمیوں پر پابندی کے لیے عالمی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ سیاسی محاذ پر بیروت نے نئے ایرانی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر اپنے موقف میں سختی پیدا کر دی ہے جس پر حزب اللہ اور اہم شخصیات نے کڑی تنقید کی ہے جو لبنانی ریاست اور تہران کے تعلقات میں مزید پیچیدگی کا پیش خیمہ ہے۔
روئٹرز نے بیروت میں موجود ایک غیر ملکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ حزب اللہ اپنی سیاسی پوزیشن کی بحالی اور مظلوموں کی حمایت جاری رکھنے کے لیے ایران کی حمایت یافتہ جنگ بندی کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں قابض اسرائیل کی وزارت خارجہ نے ہمیشہ کی طرح ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تل ابیب نے ایرانی نظام کے ساتھ کبھی براہ راست مذاکرات نہیں کیے اور نہ ہی آئندہ ایسا کوئی ارادہ ہے۔
اسرائیلی عسکری حکمت عملی سے واقف ایک ذریعے نے اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی ختم ہونے کے باوجود حزب اللہ پر حملے جاری رہ سکتے ہیں کیونکہ غاصب دشمن ان دونوں محاذوں کو الگ سمجھتا ہے تاکہ وہ اپنی نسل کشی کی مہم کو جاری رکھ سکے۔ لبنانی ذرائع کے مطابق جنگ میں شامل ہوتے وقت حزب اللہ کا یہ تزویراتی تخمینہ تھا کہ ایرانی قیادت کی بقا اور لبنان سمیت پورے خطے میں بیک وقت جنگ بندی ہو جائے گی لیکن اب تک یہ اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔
زمینی حقائق کے حوالے سے لبنانی حکام نے دل دہلا دینے والے اعداد و شمار بتائے ہیں کہ مارچ کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیل کی سفاکیت کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد بے گناہ شہری جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ دس لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
تہران نے جنگ بندی کے لیے پانچ اہم اور کڑی شرائط رکھی ہیں جن میں تمام حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ، جنگ کی دوبارہ شروعات کو روکنے کے لیے ٹھوس بین الاقوامی ضمانتیں، ہونے والے مالی و جانی نقصانات کا مکمل معاوضہ اور ہرجانہ، تمام محاذوں بشمول علاقائی حلیفوں کے ساتھ لڑائی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری کا باقاعدہ اعتراف شامل ہے۔
اسی سلسلے میں پاکستانی وساطت سے تہران کو 15 نکات پر مشتمل ایک امریکی تجویز موصول ہوئی ہے جس میں عارضی جنگ بندی، ایرانی جوہری پروگرام، مزاحمتی گروہوں کی حمایت اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی جیسے نکات شامل ہیں جس کے بدلے میں ایران پر عائد معاشی پابندیوں کے خاتمے کی پیشکش کی گئی ہے۔ اگرچہ تہران کی جانب سے سرکاری طور پر براہ راست مذاکرات کی تردید کی جا رہی ہے لیکن وہ اپنے اصولی موقف اور شرائط پر جنگ کے خاتمے پر قائم ہے جبکہ وائٹ ہاؤس مسلسل دباؤ ڈالتے ہوئے ناکامی کی صورت میں بڑے پیمانے پر جنگ چھیڑنے کی دھمکی دے رہا ہے۔
